Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ بھی ویسا ہی اہم لمحہ ہے۔ اگر 25 سے 30 سال پہلے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن نافذ کر دیا جاتا، تو آج تک اس میں بہتری اور پختگی آ چکی ہوتی۔

چانسلر اسٹوکر اس دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں معیشت، توانائی اور سیاحت کے وفاقی وزیر سمیت سینئر عہدیداران اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔  بھارت اور آسٹریا کے تعلقات دوستانہ اور کثیر جہتی نوعیت کے حامل ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔

حکومت نے ان بلوں پر بحث کے لیے 12 گھنٹے مقرر کیے ہیں، جسے ضرورت پڑنے پر 18 گھنٹے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ آج دوپہر 3 بجے نریندر  مودی نے لوک سبھا سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے بل کی اہمیت اور حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔

نریندر مودی نے آندھرا پردیش کے کرنول ضلع میں پیش آئے دردناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مہلوکین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ ساتھ ہی وزیراعظم نے متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان بھی کیا۔ پی …

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، جدت اور پائیداری کے شعبوں میں بھارت اور آسٹریا قابل اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ دہلی میٹرو ہو یا اٹل ٹنل، آسٹریا کی سرنگ سازی کی مہارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔

مجوزہ قانون سازی کے تحت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا کی کل نشستوں کو موجودہ 543 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 تک کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور دیگر اہم آئینی و سیاسی امور پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ اس اجلاس کو ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے حوالے سے بڑے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔