Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

وزارت دفاع نے آپریشن سندور کے بعد رات میں پاکستان کی جانب سے ہندوستانی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام کرنے کی تصدیق کی ہے۔

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔

ڈرون پاکستان کے جوہری مقام پرپہنچ گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک دھماکے نے لاہور اورکراچی میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں اب تک 25 ڈرون دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ڈرون حملے کے بعد پاکستان کے سیکورٹی سسٹم پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے میں جان گنوانے والے آندھرا پردیش کے نیلاپور کے مدھوسودن راؤ کی اہلیہ کماکشی پرسنا نے ’آپریشن سندور‘ کے لئے وزیراعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے ہمارا بدلہ لے لیا۔

پنجاب کے شاہی امام مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی نے ’آپریشن سندور‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب جاگ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرکوئی گستاخی دہرائی گئی توپھرمنہ توڑجواب دیا جائے گا۔

مرکز کے زیر انتظام وادی کشمیر کو بھی الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وادی کے تمام اضلاع میں کنٹرول روم نمبر جاری کردیئے گئے ہیں۔ یہ نمبر کسی بھی قسم کی پریشانی کی صورت میں لوگوں کی مدد کے لئے دیئے گئے ہیں۔

لاہور میں ہونے والے دھماکوں سے متعلق یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستانی فوج نے 6-7 مئی کی درمیانی رات پہلگام حملے کے جواب میں ’آپریشن سندور‘ شروع کیا تھا۔ ہندوستانی فوج نے پاکستان میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے تباہ کر دیئے۔

ہندوستانی فوج نے منگل کی رات 1.05 سے 1.30 کے درمیان دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں پر 24 میزائلوں سے حملہ کیا، جس میں مریدکے میں لشکر طیبہ کا ہیڈکوارٹر اور بہاولپور میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانے شامل تھے۔ یہ وہ مقامات ہیں جو دہشت گردی کی سرگرمیوں کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ اس حملے کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا۔

رات میں ایک بج کر 5 منٹ سے لے کر1:30 بجے کے درمیان ہماری تینوں جانباز افواج نےدہشت گردوں کو مٹی میں ملا دیا۔ ہندوستانی فوج نے جس مضبوطی کے ساتھ پاکستان کے خلاف کارروائی کی ہے، وہ برسوں تک اسے یاد رکھے گا۔ ہندوستانی فوج کی اس مہم کو ’’آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا گیا۔

22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام علاقے میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی کی ہے۔