Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Attack

ڈیجیٹل سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اثر طویل عرصے تک رہ سکتا ہے۔ لاہور میں مقیم ایک سوشل میڈیا اسٹریٹجسٹ نے کہا، ’’ان لوگوں کے لیے جو یوٹیوب کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں، ہندوستانی ناظرین کا جانا ایک بہت بڑا مالی نقصان ہے۔‘‘

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کے ساتھ سری نگر میں سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے فوج سے کہا کہ وہ پوری قوت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ وہیں، پیر کے روز جموں و کشمیر اسمبلی نے بھی متفقہ طور پر اس گھناؤنے حملے کی مذمت کی اور ایک قرارداد پاس کی۔

پاکستان جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد چار سال کی نظر بندی  جھیلنے والے میر واعظ نے خطبہ جمعہ  میں کہا کہ پہلگام کے ہولناک واقعے کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ جب بھی ایسی چیزیں ہوتی ہیں، یہ کشمیر کے لوگ ہی ہوتے ہیں جو ان کے ظلم و ستم کو برداشت کرتے ہیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے معاملے پر، فاروق عبداللہ نے کہا کہ پہلگام واقعے میں کوئی بھی ہو سکتا ہے، جب تک ہم ان کو پکڑیں گے نہیں تب تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہینڈلر کون ہے، میں کہہ سکتا ہوں کہ اس حملے کے پیچھے وہی ہوں گے۔

درخواست گزار نے کہا کہ جب ہمیں پاکستان کے لیے نوٹس ملا تو ہم چونک گئے۔ یہی نہیں، ہمیں گاڑی میں بٹھا کر اٹاری بارڈر پر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ ہم ملک چھوڑ دیں، جبکہ ہم ہندوستانی ہیں۔

جاوید اختر نے مسوری میں کشمیری شال بیچنے والوں پر حملے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جو لوگ مسوری یا ہندوستان کے کسی بھی حصے میں کشمیریوں کو ہراساں کرتے ہیں، وہ صرف پاکستان کے پروپیگنڈے کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 99 فیصد کشمیری بھارت کے وفادار ہیں۔

چند دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی اعلیٰ پاکستانی لیڈر نے دہشت گردی کی حمایت کا اعتراف کیا ہے۔ یہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور ہندوستان کے جارحانہ موقف سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں لیڈران کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ ہندوستان کوئی بڑی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

مہاراشٹر سائبر نے کچھ حملوں کو روکا ہے، لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہندوستان کا اہم انفراسٹرکچر جیسے ریلوے، بینکنگ اور سرکاری پورٹلز خطرے میں ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی جگہوں پر سائبر سیکورٹی کمزور ہے، جس کی وجہ سے حملے کامیاب ہوئے، ہندوستانی ٹیلی کام کا ٹیرا بائٹ ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہو گیا ہے، جس سے ملک کے سیکورٹی سسٹم پر بڑا سوال اٹھ رہا ہے۔

سی آئی اے نے 32 سال قبل خبردار کیا تھا کہ ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کو ہوا دے سکتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، جب دہشت گردوں نے پہلگام جیسے پرامن سیاحتی مقام کو نشانہ بنایا،