نیشنل کانفرنس کے قومی صدر فاروق عبداللہ
سری نگر: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے آئی اے این ایس سے خصوصی بات چیت کی۔ انہوں نے پہلگام واقعہ کو دردناک قرار دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے پر بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے قومی صدر فاروق عبداللہ نے کہا، ’’پہلگام واقعہ بہت دردناک تھا، یہ ہونا نہیں چاہیے تھا۔ ان لوگوں نے انسانیت کا قتل کیا ہے، اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشت گردوں کو پکڑ کر سزا دی جائے اور یہ سب کے لیے ایک مثال ہو۔‘‘
پہلگام دہشت گردانہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے معاملے پر، انہوں نے کہا، ’’پہلگام واقعے میں کوئی بھی ہو سکتا ہے، جب تک ہم ان کو پکڑیں گے نہیں تب تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہینڈلر کون ہے، میں کہہ سکتا ہوں کہ اس حملے کے پیچھے وہی ہوں گے۔ یہ آج کی بات نہیں ہے، بلکہ اڑی، پلوامہ، پٹھان کوٹ، پونچھ اور ممبئی میں حملے کس نے کیا تھا، یہ بات سبھی لوگ جانتے ہیں۔ ہینڈلرز تو وہیں (پاکستان) بیٹھے ہیں۔‘‘
پہلگام حملے میں مقامی شہریوں کے ملوث ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ واقعہ کسی کی مدد کے بغیر ہوسکتا تھا، جب تک کوئی دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرتا، ایسا حملہ نہیں ہوگا۔ وہ کہاں سے آئے اور کیسے حملہ کیا؟ میں نے پہلے بھی یہ بات کہی تھی جب مولانا مسعود اظہر کو رہا کیا گیا تھا۔ اس وقت میں نے ان سے کہا تھا کہ اسے نہ چھوڑیں، کون جانتا ہے کہ اس حملے میں اس کا بھی ہاتھ ہو، لیکن کسی نے میری بات نہیں سنی اور وہ اسے لے گئے۔ جس نے پاکستان میں بچوں کو قتل کیا اور میرے کزن کے گھر میں گھس کر گولی ماری۔ ہم نے بڑی مشکل سے اس شخص کو پکڑا لیکن وہ اسے جہاز میں بٹھا کر قندھار لے گئے اور ہماری ایک بھی بات نہ سنی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

