ہندوستان میں پابندی کے سبب پاکستانی یوٹیوبرز اور کرکٹرز پریشان
اسلام آباد، 3 مئی (آئی این ایس) کئی پاکستانی یوٹیوبرز اور سابق کرکٹرز نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے حالیہ پابندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے ان کی کمائی اور یوٹیوب پر ان کی شناخت کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔
بہت سے پاکستانی کنٹینٹ کریٹر خاص طور پر وہ لوگ جو کرکٹ پر ویڈیوز بناتے ہیں، ان کے ناظرین کی تعداد ہندوستان سے ہے۔ ہندوستان کو یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر کرکٹ سے متعلق کنٹینٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستانی یوٹیوبرز کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ان کے لیے روزی روٹی کا بڑا بحران بن سکتی ہے۔
ایک سابق پاکستانی کرکٹر نے آئی اے این ایس کو بتایا، ’ہمارے چینلز کے ناظرین کا ایک بڑا حصہ ہندوستان سے آتا ہے۔ کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ ہم ہندوستانی ناظرین پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہ پابندی ہمارے لیے آمدنی اور پہچان دونوں کے لحاظ سے ایک بڑا دھچکا ہے۔‘
پچھلے کچھ سالوں میں، کئی پاکستانی کرکٹ ماہرین، سابق کھلاڑی اور بلاگرز ہندوستان میں مقبول ہوئے ہیں۔ وہ کھل کر میچوں پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور ہندوستان پاکستان کرکٹ میچوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ہندوستانی یوٹیوبرز کے ساتھ مل کر ویڈیوز بناتے ہیں اور ان سے ویوز، اشتہارات اور لائیو چیٹ جیسی چیزوں کے ذریعے پیسے کماتے ہیں۔
لیکن اب، ہندوستانی ناظرین کی کمی کی وجہ سے، ان کی آمدنی اور ناظرین دونوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے ان کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔
ڈیجیٹل سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اثر طویل عرصے تک رہ سکتا ہے۔ لاہور میں مقیم ایک سوشل میڈیا اسٹریٹجسٹ نے کہا، ’’ان لوگوں کے لیے جو یوٹیوب کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں، ہندوستانی ناظرین کا جانا ایک بہت بڑا مالی نقصان ہے۔‘‘
کچھ امید کر رہے ہیں کہ پابندی عارضی ہو گی، جبکہ دوسرے اپنے ناظرین کا دائرہ ہندوستان سے باہر بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فی الحال، پاکستانی کنٹینٹ کریٹر اس صورت حال سے پریشان ہیں اور سب سے بڑے ناظرین طبقے سے محروم ہونے کی فکر میں ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


