Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Attack

میانمار سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹ کو  ہندوستان نے متعصب اور فرقہ وارانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپریل میں پہلگام حملے نے روہنگیائی پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک کو متاثر کیا ہے۔

میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سوریا کمار یادو نے کہا: میں اس ٹورنامنٹ کے تمام میچز کی اپنی فیس بھارتی فوج کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔ان کے ساتھ موجود اوپنر ابھیشیک شرما نے بھی اس فیصلے کی تائید کی۔

ایس جے شنکر نے کہا، جب قومیں کھلے عام دہشت گردی کو سرکاری پالیسی قرار دیتی ہیں، جب دہشت گردی کے مراکز صنعتی پیمانے پر کام کرتے ہیں، اور جب دہشت گردوں کو عوامی طور پر پزیرائی دی جاتی ہے، تو ایسے اقدامات کی بلا امتیاز مذمت ہونی چاہیے۔

جے شنکر نے کہا کہ برکس ممالک کو کثیرالجہتی اور متوازن تجارتی نظام کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر جب دنیا میں ٹیرف تنازعات، تجارتی جنگیں اور تحفظ پسندی کا دور چل رہا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک کو تکنیکی اور تخلیقی شراکت داری کو تیز کرنے کی بھی ترغیب دی، جو 21ویں صدی کی ترقی کے امکانات کا تعین کرے گی۔

ایس جے شنکر نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا: جو ممالک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنا چکے ہوں، جہاں دہشت گردی کے مراکز صنعتی پیمانے پر چل رہے ہوں، جہاں دہشت گردوں کو عوامی طور پر ہیرو بنایا جاتا ہو، ایسے اقدامات کی سخت اور واضح مذمت کی جانی چاہیے۔"

وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ بھارت اور سنگاپور کے تعلقات محض سفارتی حدود تک محدود نہیں بلکہ ان کا مرکز پورے خطے میں امن، ترقی اور خوش حالی کا مشترکہ وژن ہے۔

ایس سی او اجلاس میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تمام رکن ممالک متحد ہیں۔ اجلاس کے دوران رکن ممالک نے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک یا گروہ کی طرف سے دہشت گردی کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا، "امریکہ نے عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے میں پاکستان کی کامیابی کی تعریف کی۔

وزارت داخلہ یا نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے جاری رپورٹ ہی مستند ذریعہ ہے۔ عوام، میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے سے گریز کریں۔

یہ تنازعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی مذمت کیوں نہیں ہو پاتی، اور کیا بھارت اپنے دعووں کو مؤثر انداز میں عالمی برادری تک پہنچا پاتا ہے یا نہیں؟