Bharat Express DD Free Dish

Mani Shankar Aiyar: ہم ہی چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ پاکستان ذمہ دار ہے، لیکن… پہلگام حملے پر منی شنکر ایئر کا بڑا بیان

یہ تنازعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی مذمت کیوں نہیں ہو پاتی، اور کیا بھارت اپنے دعووں کو مؤثر انداز میں عالمی برادری تک پہنچا پاتا ہے یا نہیں؟

کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر نے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے پر مرکز کی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ:”33 ممالک میں بھیجے گئے وفود میں سے کسی نے بھی پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ اقوامِ متحدہ اور امریکہ نے بھی پاکستان کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ صرف ہم ہی چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ پاکستان ذمہ دار ہے، لیکن کوئی ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیتا۔”انہوں نے مزید کہا کہ:”ہم یہ ثابت ہی نہیں کر سکے کہ حملے کے پیچھے کون سی ایجنسی تھی۔”

حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کا مؤقف

مرکزی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ:یہ حملہ لشکرِ طیبہ کی طرف سے کرایا گیا تھا۔مارے گئے دہشت گردوں کو پاکستان میں تربیت دی گئی تھی اور فنڈنگ بھی وہیں سے ہوئی۔آپریشن مہادیو کے دوران جموں و کشمیر کے جنگلات میں یہ دہشت گرد مارے گئے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس کارروائی کو “دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جواب” قرار دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے کردار کو بین الاقوامی سطح پر ثبوتوں کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔

منی شنکر ایئر کا اختلاف

منی شنکر ایئر کے مطابق:کسی بھی ملک نے کھلے عام پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔اقوامِ متحدہ اور امریکہ جیسے ادارے خاموش ہیں۔بھارت ٹھوس فرانزک یا انٹیلی جنس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

22 اپریل کا پہلگام حملہ

یہ دہشت گردانہ حملہ 22 اپریل کو پہلگام، جموں و کشمیر میں پیش آیا۔حملہ سیاحوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا جب وہ میدان میں وقت گزار رہے تھے۔اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔مارے گئے دہشت گردوں کے نام:سلیمان،افغانی،جبران (جو کہ لشکرِ طیبہ کا ٹاپ کمانڈر تھا)یہ تنازعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی مذمت کیوں نہیں ہو پاتی، اور کیا بھارت اپنے دعووں کو مؤثر انداز میں عالمی برادری تک پہنچا پاتا ہے یا نہیں؟

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read