Bharat Express DD Free Dish

BRICS nations condemn Pahalgam attack, EAM Jaishankar Chairs BRICS Meet and voices for multilateralism, UN reforms: برکس ممالک نے پہلگام حملے کی مذمت کی، جے شنکر نے برکس اجلاس کی صدارت کی اور کثیرالجہتی نظام و اقوام متحدہ کی اصلاحات کے لیے آواز بلند کی

جے شنکر نے کہا کہ برکس ممالک کو کثیرالجہتی اور متوازن تجارتی نظام کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر جب دنیا میں ٹیرف تنازعات، تجارتی جنگیں اور تحفظ پسندی کا دور چل رہا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک کو تکنیکی اور تخلیقی شراکت داری کو تیز کرنے کی بھی ترغیب دی، جو 21ویں صدی کی ترقی کے امکانات کا تعین کرے گی۔

وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے 26 ستمبر کو نیو یارک میں برکس (BRICS) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ برکس کی موجودہ صدارت کرتے ہوئے، جے شنکر نے زور دیا کہ عالمی جغرافیائی سیاسی پیچیدگیوں اور غیر یقینی صورت حال کے اس دور میں کثیرالجہتی تعاون، اقوام متحدہ کی اصلاحات اور تعمیری بین الاقوامی تعلقات کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ اس دوران، برکس ممالک کی مشترکہ بیان میں پاہلگام دہشتگردی کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور دہشت گردی کو “جرم اور ناقابل قبول” قرار دیا گیا۔

برکس اجلاس میں جے شنکر کا کلیدی پیغام

وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی نظام شدید دباؤ میں ہے، اور دنیا چند ہی اجارہ دار طاقتوں کے حق میں جھکی ہوئی ہے، ایسے میں برکس ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مضبوط آواز کے طور پر ابھرا ہے تاکہ عالمی سطح پر تعمیری تبدیلی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ کے اس دور میں برکس کو امن، بات چیت اور سفارتی عمل کو فروغ دینے والا ایک طاقتور پلیٹ فارم بننا چاہیے۔

جے شنکر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی فوری اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اسے موجودہ جغرافیائی و اقتصادی حقائق کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ UNSC 1940 اور 50 کی دہائی کے بعد کی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے، جس میں چین، روس، فرانس، برطانیہ اور امریکہ مستقل ممبر ہیں، لیکن بھارت کو جگہ نہیں دی گئی، حالانکہ بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، جو جلد ہی تیسری بڑی معیشت بننے والی ہے، سب سے بڑی جمہوریت ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ہے۔ اس لیے بھارت مستقل طور پر UNSC میں اصلاحات کا مطالبہ کرتا آیا ہے تاکہ عالمی نظام کو موجودہ دور کے مطابق بنایا جا سکے۔

تجارت، ٹیکنالوجی اور تعاون کے لیے برکس کی سمت

جے شنکر نے کہا کہ برکس ممالک کو کثیرالجہتی اور متوازن تجارتی نظام کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر جب دنیا میں ٹیرف تنازعات، تجارتی جنگیں اور تحفظ پسندی کا دور چل رہا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک کو تکنیکی اور تخلیقی شراکت داری کو تیز کرنے کی بھی ترغیب دی، جو 21ویں صدی کی ترقی کے امکانات کا تعین کرے گی۔

بھارت  جو اس وقت برکس کا چئیرمین ملک ہے، نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اتحاد کو “نئی شکل” اور مقصد دے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی صدارت میں فوڈ اور انرجی سیکورٹی، موسمی تبدیلی، ڈیجیٹل تبدیلی، جدت اور عالمی جنوب سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کی پائیدار ترقی پر خاص توجہ دی جائے گی۔

پہلگام حملہ ‘جرم اور ناقابل قبول’ قرار

27 ستمبر کو برکس ممالک کی مشترکہ بیان میں پہلگام حملے کی سخت مذمت کی گئی، جس میں کہا گیا:”ہم پہلگام، جموں و کشمیر میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جس میں 26 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ برکس ممالک دہشتگردی کی تمام اقسام کے خلاف لڑائی میں پرعزم ہیں اور دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو ملکی یا بین الاقوامی قوانین کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف “زیرو ٹالرنس” کا عزم ظاہر کیا اور دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار کی ہر قسم کی پالیسی کو مسترد کیا۔

بھارت کی سفارتی کامیابیاں

بھارت کے برکس کی صدارت میں اس طرح کے سخت اور متحدہ بیانات ایک اہم سفارتی کامیابی ہیں جو بھارت کی دہشتگردی کے خلاف مسلسل کوششوں اور دہشت گردوں کے سرپرستوں کو جواب دہ بنانے کی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے قبل، گزشتہ ماہ چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (SCO) کے اجلاس میں بھی پہلگام دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی گئی تھی، جو بھارت کے لیے ایک اور اہم سفارتی کامیابی ہے۔

بھارت ایکسریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read