Bharat Express DD Free Dish

India rejects biased UN report: پہلگام حملے کے بعد بھارت میں روہنگیائی  پناہ گزینوں پر بڑھا دباؤ!  اقوام متحدہ کی رپورٹ کوبھارت نے کیا مسترد

میانمار سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹ کو  ہندوستان نے متعصب اور فرقہ وارانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپریل میں پہلگام حملے نے روہنگیائی پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک کو متاثر کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق اپنی رپورٹ میں اینڈریوز نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، میانمار سے آنے والے پناہ گزینوں پر ہندوستان میں شدید دباؤ ہے حالانکہ اس حملے میں میانمار کا کوئی فرد ملوث نہیں تھا۔   رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ دلیپ سائکیا نے رپورٹ کو متعصبانہ قرار  دیاہے۔ سائکیہ نے میانمار میں انسانی حقوق کے بارے میں بریفنگ میں بتایا کہ ’’یہ الزام کہ اس دہشت گردانہ حملے نے میانمار سے بے گھر ہونے والے افراد کو متاثر کیا، اس میں قطعی طور پر کوئی حقیقت نہیں ہے‘‘۔

’’میرا ملک اس طرح کے متعصبانہ ’تجزیہ‘ کو مسترد کرتا ہے۔‘‘

دلیپ سائکیا نے کہا کہ، ’’میرا ملک خصوصی نمائندے کے اس طرح کے متعصبانہ ’تجزیہ‘ کو مسترد کرتا ہے۔‘‘ سائکیا جنرل اسمبلی میں ہندوستان کے وفد میں شامل ہونے والے ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک ہیں۔ ہندوستان میں روہنگیا کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا،’’میرا ملک بے گھر ہونے والے افراد میں بنیاد پرستی کی خطرناک حد کو محسوس کر رہا ہے جس کے نتیجے میں امن و امان کی صورت حال پر دباؤ اور اثر پڑ رہا ہے‘‘۔

جامع سیاسی بات چیت کی حمایت

میانمار کے بحران کے پیچھے روہنگیا تنظیم اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (ARSA) ہے، جس کی سربراہی کراچی میں پیدا ہونے والے ایک روہنگیا عطا اللہ ابو عمار جونونی کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے نقطہ نظر کے بارے میں، سائکیا نے کہا کہ ہندوستان تشدد کے فوری خاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، اور جامع سیاسی بات چیت کی حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا، ’’ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ پائیدار امن صرف شمولیتی سیاسی بات چیت اور جمہوری عمل کی جلد بحالی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے‘‘۔

رپورٹ میں اینڈریوز نے یہ بھی  کہا۔۔۔

رپورٹ میں اینڈریوز نے یہ بھی  کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں نے انہیں بتایا کہ حالیہ مہینوں میں انہیں ہندوستانی حکام کی طرف سے طلب کیا گیا، حراست میں لیا گیا، پوچھ گچھ کی گئی اور انہیں ملک بدری کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 40 روہنگیا پناہ گزینوں کو سمندر کے ذریعے لے جا کر میانمار کے ساحل سے دور چھوڑ دیا گیا جبکہ دیگر کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ واضح رہے کہ  میانمار سے روہنگیا کی نقل مکانی اس وقت شروع ہوئی جب دہشت گرد گروپ اراکان روہنگیا سالویشن آرمی نے اگست 2017 میں میانمار کی سیکورٹی پوسٹوں پر حملہ کیا، جس کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read