Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

وزیر داخلہ  امت نے 'آپریشن سندور' کو پہلگام میں معصوم لوگوں کے وحشیانہ قتل پر ہندوستان کا ردعمل قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت ہندوستان اور اس کے عوام پر کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہے

 پاکستان میں دیر رات ہندوستان کی طرف سے کئے گئے ایئراسٹرائیک کووزیراعظم نریندرمودی نے ملک کے لئے فخرکا لمحہ قراردیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے کابینہ کے سبھی اراکین ’آپریشن سندور‘ کی جانکاری دی ہے۔ کابینہ نے وزیراعظم مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد ظاہرکیا ہے۔

ہندوستان کے فضائی حملے کے بعد پاکستان نے کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے دو ٹاپ دہشت گرد میں سب سے پہلا نام حافظ عبدالمالک کا ہے جو لشکر کے بڑے آپریشنل کمانڈر بتائے جاتے ہیں۔ وہ مریدکے میں لشکر کے ہیڈ کوارٹر 'مرکز طیبہ' میں موجود تھے جہاں یہ حملہ ہوا۔

بھارت نے جن دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ان میں جیش محمد کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے کیمپوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ سب سے بڑا حملہ بہاولپور میں کیا گیا جو کہ بین الاقوامی سرحد کے اندر تقریباً 100 کلومیٹر اندر واقع ہے۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ آپریشن سندورکے بعد جموں وکشمیرمیں ایمرجنسی میٹنگ بلائی ہے۔ ممکنہ طورپریہ میٹنگ پاکستان سے متصل علاقوں میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بلائی گئی ہے۔

صوفیہ قریشی کا تعلق گجرات سے ہے۔ وہ 1981 میں گجرات کے وڈودرا  میں پیدا ہوہیں۔ انہوں نے بائیو کیمسٹری میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ کئی رپورٹس میں کہا گیا کہ صوفیہ کے دادا بھی فوج میں تھے

اس آپریشن سندور کے تحت بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر کے مدرسے پر چار میزائل داغے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ اس  حملے میں مسعود اظہر کے خاندان  کے14 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

دہشت گردوں کو سبق سکھانے کے لیے مودی حکومت مکمل ایکشن موڈ میں نظر آرہی ہے۔ قابل ذکر بات  یہ ہے  کہ وزارت داخلہ نے عام لوگوں کو جنگ کی صورت میں بدھ 7 مئی کو ملک بھر میں موک  ڈرل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

احتیاطی تدابیر کے طور پر، متاثرہ علاقوں میں تمام اسکولوں اور کالجوں کو دن بھر کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ حکام نے رہائشیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور اپنی حفاظت کے لیے مقامی عہدیداران کی ہدایت پر پوری طرح عمل کریں۔