Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak Case

اتراکھنڈ پولیس کے جوان شیر سنگھ نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی نیٹ مخالف تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر پہنچنے پر شیر سنگھ کا خیرمقدم کیا اور ان کے فیصلے کو طلبہ کے حق میں ایک اہم قدم قرار دیا۔

بہار میں پیپر لیک معاملے پر طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ نوادہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفتر کی سکیورٹی اچانک سخت کر دی گئی ہے، جبکہ ضلع کے ایس پی خود سڑکوں پر اتر کر حالات کی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کی کمان سنبھال رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ تھی کہ طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع نہ ہونے پائے، اسی لیے کم سے کم وقت میں دوبارہ امتحانات کا انعقاد کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کرتے ہوئے تقریباً 22 لاکھ طلبہ کے امتحانات کا کامیاب انعقاد کیا، جس کے نتائج بھی حال ہی میں جاری کر دیے گئے ہیں۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے لکھا، ’’وزیراعظم مودی کی قیادت میں طلبا کے مفاد کا تحفظ اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ آپ ہی نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے تعلیمی نظام پر مکمل قبضہ ہونے دیا، اسے تباہ ہونے دیا، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اس کے ذمہ دار ہر شخص کو تحفظ فراہم کیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ طلبہ کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی یہ ایک اہم کڑی ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔

جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران سی جے پی کے مرکزی ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ ہمارا وقت قیمتی ہے اور ہم مرکزی وزیر جے پی نڈا سے اسی وقت ملاقات کریں گے، جب وہ ہماری مطالبات کو تسلیم کرنے اور انہیں پورا کرنے پر آمادہ ہوں۔

لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر التوا کی تحریک (Adjournment Motion) پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے ایوان میں جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

سی جے پی کے احتجاج اور پولیس کارروائی کو لے کر سیاسی اور قانونی سطح پر بحث جاری ہے۔ یاد رہے کہ 15 مئی کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کچھ بے روزگار نوجوان کاکروچ کی طرح ہوتے ہیں، جو بعد میں میڈیا، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی کارکن بن کر نظام پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی، شرد پوار اور سپریا سولے کی مسکراتی ہوئی تصاویر سامنے آنے کے بعد سیاسی قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندی (پریسیمن) بل پر حکومت کو این سی پی (ایس پی) کے آٹھ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہو سکتی ہے،