Bharat Express DD Free Dish

NDA Government

بہار میں این ڈی اے کی جیت کے بعد کابینہ کی تشکیل اور اتحادی جماعتوں کی حصے داری کا فارمولا طے ہو گیا ہے۔ پیر 17 نومبر کو جے ڈی یو ودھان منڈل کے اجلاس کے بلائے جانے کا امکان ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار جیت کے فوراً بعد پارٹی نے تنظیمی نظم و ضبط کے تحت بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سابق مرکزی وزیر آر کے سنگھ سمیت تین رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ ان کے ساتھ کٹیہار کی میئر اوشا اگروال اور قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) اشوک اگروال پر بھی سخت کارروائی کی گئی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی تاریخی اور شاندار کامیابی کے بعد مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے ریاست کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کے تحت دراندازوں کو بچانے والوں کو عوام نے کرارا جواب دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس کامیابی کو بہار کے باشعور ووٹروں کا فیصلہ اور ترقی و امن کی جیت قرار دیا۔

بہار اسمبلی انتخابات ہمیشہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے پہیلی رہا ہے۔ اوپینین پول اور اصل رزلٹ کے درمیان اکثر بڑا فرق دیکھا گیا ہے۔ 2000 سے 2020 تک ریاست میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہار کے ووٹر اکثر ماہرین کے اندازے کو الٹا ثابت کر دیتے ہیں۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر شاہنواز حسین نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور نتیش کمار کی جوڑی کے سامنے کوئی اپوزیشن ٹک نہیں سکے گی۔ انہوں نے بہار میں این ڈی اے کی حکومت کو ایک مرتبہ پھر قائم ہونے کی امید ظاہر کی۔

ذرائع کے مطابق، جانکاری سامنے آئی ہے کہ 15 سے 20 نومبرکے درمیان ووٹوں کی گنتی ممکن ہے۔ پورا انتخابی عمل 22 نومبرکی ڈیڈ لائن سے پہلے پوری کرلی جائے گی۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا، "آج پی ایم یہاں سے ریاست بھر میں بجلی، سڑک اور شہری ترقی سے جڑی 14 منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں، دو ٹرینوں کو بھی ہری جھنڈی دکھا رہے ہیں۔ ان سب کی لاگت 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے، ان تمام سے بہار کو بہت فائدہ پہنچے گا۔"

آئندہ ماہ 9 ستمبرکو ہونے والا نائب صدرعہدے کا الیکشن این ڈی اے کی طرف سے راجناتھ سنگھ کی نگرانی میں ہوگا۔ این ڈی اے نے اتوار کے روز اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم اپوزیشن کی طرف سے ابھی تک کسی امیدوار کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت کی معاشی کہانی کا ایک اہم پہلو شہری اور دیہی علاقوں میں متوازن ترقی ہے۔ مودی کی گورننس نے عالمی وژن کو مقامی ترسیل کے ساتھ جوڑا ہے، جس سے دیہی بھارت کی معاشی صلاحیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے 26 مئی 2014 کو پہلی بار وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ تب سے انہوں نے ملک کو ترقی کے ایک تبدیلی کے سفر پر آگے بڑھایا ہے۔ اس موقع پر حکومت مختلف شعبوں میں اپنی کامیابیوں کو سامنے لا رہی ہے۔