Bharat Express DD Free Dish

Narendra Modi

پی ایم مودی نے مزید لکھا کہ میرے تمام کارکن ساتھیوں کو میری بہت بہت مبارکباد ،جنہوں نے اس شاندار  جیت کے لیے دل سے  اور پوری لگن کے ساتھ کام کیا! آپ نے نہ صرف ریاست کے لوگوں کی اچھی خدمت کی ہے بلکہ ہمارے ترقیاتی ایجنڈے کو بھی ان تک پہنچایا ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ میرے خیال میں یہ بڑی بات ہے کہ وادی کے لوگوں نے کانگریس کے تئیں ایسا ردعمل دیا ہے۔ دس سال بعد وہاں الیکشن ہوئے اور لوگوں نے بخوشی ہمیں قبول کر لیا۔

دہلی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کیجریوال نے اس کا موازنہ 1990 کی دہائی میں ممبئی (اس وقت کے بمبئی) میں ہونے والی انارکی سے کیا۔

بی جے پی آئین کو تباہ کرنے میں لگی ہوئی ہے‘‘، راشد علوی سے جب راہل گاندھی کے اس پوسٹ پر ردعمل پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، بی جے پی کے جتنے بھی وزرائے اعلیٰ اور گورنر ہیں، وہ سب آئین سے کھیل رہے ہیں۔ ان کے ایک گورنر کا کہنا ہے کہ سیکولرازم ایک غیر ملکی نظریہ ہے۔

 وزیراعظم نریندر مودی نے ہریانہ اسمبلی الیکشن کی تشہیر کے آخری دن ایکس پر یکے بعد دیگرے 6 پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہریانہ کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کیسے کانگریس کے لیڈران آپس میں لڑ رہے ہیں۔ یہ حال تب ہے، جب یہ اپوزیشن میں ہیں۔ ہریانہ کے لوگوں کو اس بات سے بھی چوٹ پہنچ رہی ہے کہ دہلی اور ہریانہ میں بیٹھے دو خاص پریواروں کے اشارے  پر پورے ہریانہ کی توہین ہو رہی ہے۔

بھارت رتنا لتا منگیشکر اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہمیشہ گہرے پیار اور باہمی احترام کا رشتہ رہا ہے۔ یہاں ان کے پیارے رشتے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اس کے ساتھ ہی لتا منگیشکر کا ہاتھ سے لکھا ہوا خط بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ  کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے جموں میں عوامی ریلی میں خطاب کے دوران اپوزیشن پر جم کرتنقید کی اور مودی حکومت کی حصولیابیاں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے لوگ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی نہیں چاہتے ہیں۔

پی ایم مودی کے علاوہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ان کی 92 ویں سالگرہ پر سوشل میڈیا پر مبارکباد دی۔

ریلی میں وزیر اعظم مودی نے کہا، "جیسے جیسے ووٹنگ کا دن قریب آ رہا ہے، کانگریس کمزور ہو رہی ہے اور ہریانہ میں بی جے پی کو زیادہ حمایت مل رہی ہے۔ میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں جو کچھ ہوں اس میں ہریانہ کا بہت بڑا رول رہا ہے۔

پی ایم مودی اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان ایک ماہ میں یہ دوسری ملاقات تھی۔ پی ایم مودی نے 23 اگست کو یوکرین کا دورہ کیا تھا۔ ا