Bharat Express DD Free Dish

Muslim Women

مسلم راشٹریہ منچ کی قومی کنوینر اور خواتین ونگ کی سربراہ ڈاکٹر شالینی علی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا—عورت سونے کا ہار نہیں، ایک آزاد شہری ہے، عزت کے نام پر خواتین کو گھروں میں محدود کرنا ان کی آزادی اور صلاحیتوں پر پہرہ بٹھانے کے مترادف ہے

ڈاکٹر دنیش شرما نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سماج کے کسی طبقے کے ساتھ مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا اور مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں سے مسلم سماج کی زندگی میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

واردات کے بعد پولیس نے معاملہ درج کیا اور تفتیش شروع کی۔ جانچ کے دوران پولیس نے جائے حادثہ کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج کھنگالے، جس میں برقع پہنی ہوئی خاتون کی مشتبہ سرگرمیاں اور حملہ کرنے کا طریقہ واضح طورپر نظر آیا۔ ٹیکنیکل سرویلانس، فورنسک ثبوتوں اور چشم دید گواہوں کے بیانوں کے بنیاد پر پولیس نے ملزم خاتون کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا۔

جس طرح ہمارا ملک ریگستان، پہاڑوں، میدانوں اور میٹروپولیٹن شہروں جیسے جغرافیائی تنوع سے بھرا ہوا ہے، بالکل ویسے ہی یہاں مذہبی، ثقافتی اور لسانی کثرت کی ایک انتہائی امیر اور قدیم وراثت رہی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نہ ہونے کی وجہ سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 نافذ العمل ہے، جس کے باعث لاکھوں مسلم خواتین کو انصاف سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

کانفرنس میں کلیدی خطبہ جنوبی نیوہیمپشائریونیورسٹی اورسینٹ لیویونیورسٹی میں انڈیا فیکلٹی کی سپروائزرڈاکٹرسنگیتا سکسینہ نے پیش کیا۔ انہوں نے بہار اوربنگال کی مستند تاریخی دستاویزوں کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم خواتین کی ان خدمات کا واضح نقشہ پیش کیا، جوانہوں نے آزادی ہند کی جدوجہد، تعلیمی شعبے، سماجی اصلاحات، ادب اورتجارت کے میدانوں میں انجام دیں ہیں۔

ضلع میں شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران ہنگامہ ہوا۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران جب پولیس نے مقامی لوگوں پر گولیاں چلائیں تو جواب میں لوگوں نے پولیس ٹیم پر پتھراؤ کیا۔ اس دوران کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

سماج وادی پارٹی نے اترپردیش کی 9 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے پہلے ریاستی الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں ایس پی کی یوپی یونٹ کے صدر شیام لال پال نے ایک بڑا مطالبہ کیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ نے برقعے کی طرح پورے چہرے کو ڈھانپنے والے کپڑوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سوئٹزرلینڈ کافی زیر بحث آیا ہے۔ ملک میں برقع پر باضابطہ پابندی یکم جنوری 2025 سے شروع ہوگی۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خاں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’مسلم طلاق یافتہ خواتین کو عدت کے بعد نان ونفقے کی ادائیگی کے تعلق سے سپریم کورٹ نے جو حالیہ فیصلہ دیا ہے، اس کا ابتدائی مطالعہ کرنے سے چند اہم نکات اجاگر ہوتے ہیں۔