Bharat Express DD Free Dish

Mirwaiz Umar Farooq

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدامنی منگل کے روز مسلسل سینتیسویں روز بھی برقرار رہی۔ راؤلکوٹ میں ہزاروں افراد احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار امان خان نے پاکستان پر اس علاقے پر زبردستی قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادری اس وقت ایک نہایت مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر خبردار کیا اور کہا کہ مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔

دو جنوری کو میرواعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جس دن انہیں جامع مسجد میں نماز کے دوران لوگوں سے خطاب کرنا تھا، اس دن وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات رکھنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ایک بار پھر انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

میرواعظ نے واضح کیا کہ ان کے خیالات اور نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول، انہیں ان کے والد کی شہادت کے بعد سے سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، اور اگر انہوں نے 35 برس تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تو اب بھی اس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہ تنازعہ گزشتہ سال سے جاری ہے، جب جموں و کشمیر میں ریزرویشن قوانین میں ترمیم کے بعد اوپن میرٹ (جنرل کیٹیگری) کا کوٹا سرکاری ملازمتوں اور داخلوں میں 50 فیصد سے کم ہو کر 40 فیصد سے بھی نیچے آ گیا، جبکہ ریزرو کیٹیگریز کا کوٹا 60 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔ جنرل کیٹیگری کے طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی غیر متوازن ہے اور ان کے مستقبل کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

میر واعظم عمرفاروق نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ کشیدگی کی قیمت جموں وکشمیر کے لوگوں کو چکانا پڑتی ہے۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد چار سال کی نظر بندی  جھیلنے والے میر واعظ نے خطبہ جمعہ  میں کہا کہ پہلگام کے ہولناک واقعے کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ جب بھی ایسی چیزیں ہوتی ہیں، یہ کشمیر کے لوگ ہی ہوتے ہیں جو ان کے ظلم و ستم کو برداشت کرتے ہیں۔

مرکزی حکومت نے 11 مارچ کو میرواعظ کی عوامی ایکشن کمیٹی اور مسرور عباس انصاری کی جموں و کشمیر اتحاد المسلمین پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 کے تحت پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی تھی

میر واعظ نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے مسلم تنظیموں کی طرف سے پیش کیے گئے کسی بھی خدشے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

اے سی سی کی بنیاد میر واعظ مولانا محمد فاروق مرحوم نے 1963 میں رکھی تھی۔ 1990 میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میر واعظ مولانا محمد فاروق کے قتل کے بعد ان کے بیٹے میر واعظ عمر فاروق نے اے سی سی کی قیادت کی۔