کشمیر کے بااثر عالم میر واعظ عمر فاروق نے مرکز کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 کے تحت پانچ سال کی پابندی پر سوال اٹھایا ہے۔ وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی اور اسے ایک ‘غیر قانونی تنظیم’ قرار دینے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ عمرفاروق، جو علیحدگی پسند اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی ہیں، نے ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ بات کہی ۔ فاروق نے دعویٰ کیا کہ اے اے سی مکمل طور پر غیر متشدد اور جمہوری طریقوں” کے ذریعے کشمیر میں لوگوں کی امنگوں اور حقوق کی وکالت کر رہی ہے۔میرواعظ نے کہا کہ یہ غیر متزلزل طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے، مکمل طور پر غیر متشدد اور جمہوری طریقوں سے ان کی امنگوں اور حقوق کی وکالت کرتا ہے اور بات چیت اور غور و فکر کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرتا ہے، جس کے لیے اس کے اراکین کو جیل، قید اور یہاں تک کہ شہادت کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدام اگست 2019 سے جموں و کشمیر میں اختیار کی جانے والی دھمکیوں اور بے اختیاری کی پالیسی کے تسلسل کا حصہ لگتا ہے۔ حق کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے، لیکن خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ وزارت نے AAC کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 کے تحت فوری طور پر ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اگلے پانچ سال کے لیے اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ وزارت کا الزام ہے کہ اے اے سی کے ارکان جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کے لیے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور ملک مخالف پروپیگنڈے میں ملوث رہے ہیں۔
اس کارروائی کے حوالے سے وزارت نے کہا ہے کہ عمر فاروق کی سربراہی میں عوامی ایکشن کمیٹی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یہ ملک کی سالمیت، خود مختاری اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔ اے اے سی کے ارکان جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کے لیے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور ملک مخالف سرگرمیوں کی حمایت میں ملوث رہے ہیں۔ اے اے سی کے قائدین اور ارکان جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت سمیت غیر قانونی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں۔اس لئے ایسی تنظیموں کو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



