Strait of Hormuz: ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایران کی وارننگ، کہا-’’بیرونی طاقتوں کے لیے فوجی قوت کے مظاہرے کا میدان نہیں ہے آبنائے ہرمز‘‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
Last Tributes to Ali Khamenei: سابق سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کو آخری خراج عقیدت، مختلف ممالک کے لیڈران تہران میں موجود، بھارت سمیت متعدد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت
بھارت کی جانب سے وزیرمملکت برائے امور خارجہ پبترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر سید عطاء حسنین سرکاری وفد میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید بھی تہران پہنچنے والے نمایاں بھارتیوں میں شامل ہیں۔ تقریب میں جارجیا، عراق، تاجکستان، روس، چین، عمان، لبنان اور فلسطین سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود بھی شریک ہوئے۔
Middle East Crisis: ایران کی بحرین کو ’’سخت وارننگ‘‘ کہا-’’بحرین اپنی حد میں رہے، اشتعال انگیزی ہوئی تو کی جائے گی مزید فوجی کارروائی‘‘
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ’’بحرین کو سنجیدہ وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے، اپنے مستقبل کے ساتھ نہ کھیلے اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کرے۔‘‘ آبنائے ہرمز کے تنازع پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
American military Base: کویت اور بحرین میں امریکہ کے آٹھ فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون سے بنایا نشانہ، سپاہ پاسداران انقلاب کا بڑا دعویٰ
آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظامات ایران کے ساتھ طے کیے گئے ہیں اور آئندہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت کارروائی کی جائے گی۔
Iran’s Frozen Assets: امریکہ۔ایران مفاہمتی معاہدے کے تحت قطر میں منجمد اثاثے واپس ملنے کا دعویٰ، صدر پزشکیان نے کہا منجمد 6 ارب ڈالر جلد ہوں گے جاری
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران کو امید ہے کہ عبوری 60 روزہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب امریکی ڈالر تک کے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
US-Iran Agreement: امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو بتایا اہم، کہا-’’معاہدے سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہوگی کم اور عالمی توانائی سپلائی کو ملے گا استحکام‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
Iran-US negotiations: امریکہ-ایران مذاکرات کے سلسلے میں قطری وفد پہنچا تہران، امن معاہدے پر سفارتی سرگرمیاں تیز، ایران میں مجوزہ معاہدے کے خلاف مظاہرے
دوسری جانب ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں درجنوں افراد نے وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے خلاف نعرے لگائے اور استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔
US-Iran Peace Talks: امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کا امکان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا دعویٰ
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط اور پھر تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔
Iran-US-Israel Conflict: ایران-اسرائیل جنگ سے عالمی معیشت پر خطرے کے بادل، کیا 2027 تک مہنگائی اور کساد بازاری کا نیا طوفان آئے گا، جانئے ورلڈ بینک نے کیا وارننگ دی؟
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Middle East Crisis: کویت ایئرپورٹ حملے میں بھارتی شہری ہلاک، متعدد افراد زخمی، بھارت نے کیا سخت تشویش کا اظہار، عوامی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی اپیل
واقعے کے بعد کویت میں بھارتی سفارت خانے نے وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے تمام بھارتیوں کو چوکس رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔





