Bharat Express DD Free Dish

Middle East

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان بڑی تعداد میں امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔ مسافر پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ بین گورین ایئرپورٹ اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک پہنچ چکا ہے اور اب وہ ایک اور ری فیولنگ طیارے کو بھی سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔

کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔

سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔