Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی عسکری قیادت میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے احمد واحدی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی و فوجی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہونے سے ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسافروں کو سفر سے قبل فلائٹ اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قطر کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کو بیرونی حملوں سے بچانا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ اگر قطر پر کوئی مسلح حملہ ہوتا ہے، تو امریکہ اسے اپنی سیکورٹی اور امن کے لیے خطرہ تصور کرے گا، اور اس کے خلاف سفارتی، اقتصادی اور فوجی کارروائی کرے گا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں خوراک تک رسائی بھی جان جوکھم کا کام بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کھانا مانگنے والے بھوک سے بے حال انسانوں پر بھی گولیاں چلائی جائیں، تو انسانیت کہاں کھڑی ہے؟

ایران کا یہ سخت مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں اسرائیل اور مزاحمتی گروہوں کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔ اگرچہ فریقین نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، لیکن فضا میں ابھی بھی بے اعتمادی قائم ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ لڑائی کو طول دینا نہیں چاہتا، لیکن اپنی دفاعی تیاری میں کسی طرح کی غفلت یا نرمی برداشت نہیں کرے گا۔

حالیہ تصادم عبوری صدر احمد الشرع کے لیے ایک نیا امتحان بن گیا ہے، جو بین الاقوامی حمایت سے اقتدار میں تو آئے ہیں لیکن میدانی سطح پر امن و استحکام قائم رکھنے میں اب تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اقلیتوں کے تحفظ اور علاقائی انصاف کی سمت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو شام ایک بار پھر خانۂ جنگی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔

طویل تعطل کے بعد اب نئے تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کم از کم 60 دن کی جنگ بندی، 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی بتدریج رہائی اور ان کی باقیات کی واپسی شامل ہے۔ اس کے بدلے میں بڑی تعداد میں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔