Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے درمیان بھارت کے وزیر اعظم مودی نے عالمی برادری سے تحمل، مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ امن اور استحکام کا حامی رہا ہے اور موجودہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم فوجی واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکی فضائیہ کا جدید جنگی طیارہ ایف-15ای اسٹرائک ایگل کویت کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہو کر گر گیا۔ طیارے کے پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کرتے ہوئے پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچالی۔

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ بغیر کسی باضابطہ اعلان جنگ کے کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس اس کارروائی کی واضح طور پر مذمت کرتی ہے اور اس مشکل گھڑی میں ایرانی عوام، مرحوم رہنما کے اہل خانہ اور دنیا بھر کی شیعہ برادری سے اظہارِ تعزیت کرتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کی دیر رات اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے جاری کشیدگی، بڑھتے فوجی تصادم اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کی شب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حالیہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مشکل گھڑی میں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

اپنے پہلے سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو روسی وفاق میں ایک ’’نمایاں مدبر رہنما‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ میزائل حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔

یہ تمام طلبہ پونے کے معروف تعلیمی ادارے اندرا اسکول آف بزنس اسٹڈیز سے تعلق رکھتے ہیں اور سالانہ تعلیمی مطالعاتی دورے کے تحت پانچ روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے دبئی گئے تھے۔ ادارے کے حکام کے مطابق 40 طلبہ کو ہفتہ کے روز بھارت واپس آنا تھا جبکہ باقی 44 طلبہ و طالبات کی واپسی اتوار کو طے تھی، تاہم خطے میں اچانک پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے تمام پروازیں متاثر کر دیں۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔

ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔