Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

راجیہ سبھا میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی شہریوں کی حفاظت بھارت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 67,000 بھارتی شہری محفوظ طریقے سے وطن واپس آ چکے ہیں اور حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ تمام بھارتی شہری بلاخطر واپس لائے جائیں۔

بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "یہ خوش آئند خبر ہے کہ کل شام الخارج میں پیش آنے والی افسوسناک واقعے میں کسی بھارتی کی موت نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ متعلقہ سعودی حکام کے رابطے میں ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ملک نے اپنا نیا رہنما منتخب کر لیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہرمز آبنائے سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور عالمی منڈیوں میں بے چینی کے سبب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں، جس نے دنیا بھر کی معیشتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے تشویش کا اظہار، امریکی فوجی اڈوں کو قرار دیا خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال دراصل امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی اور سفارتی دباؤ نے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ”مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا شکست خوردہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی اس جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس اور چین کی ممکنہ مدد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں طاقتیں مختلف طریقوں سے ایران کی معاونت کر رہی ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی بحری سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران دنیا کے سب سے بڑے کھلاڑی روس نے باضابطہ طور پر میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ولادیمیر پوتن ایران کا شیلڈ بن کر کھڑے ہوگئے ہیں، جس نے واشنگٹن اور تل ابیب کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے پورے مڈل ایسٹ کے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فضائی حدود بند ہو گئی ہیں، سفارت خانوں پر حملے ہوئے اور تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک سے لے کر لبنان تک اس تنازعے کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوِٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن "آپریشن ایپک فیوری" بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کے ہدف آئندہ چند ہفتوں میں حاصل ہو سکتے ہیں۔