Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

سوشل میڈیا پر ان دنوں بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اپیندر دویدی سے منسوب ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس نے لوگوں کے درمیان تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں بھارت نے کسی طرح کا کردار ادا کیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امن کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ اس گفتگو میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔

راجیہ سبھا میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی شہریوں کی حفاظت بھارت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 67,000 بھارتی شہری محفوظ طریقے سے وطن واپس آ چکے ہیں اور حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ تمام بھارتی شہری بلاخطر واپس لائے جائیں۔

بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "یہ خوش آئند خبر ہے کہ کل شام الخارج میں پیش آنے والی افسوسناک واقعے میں کسی بھارتی کی موت نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ متعلقہ سعودی حکام کے رابطے میں ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ملک نے اپنا نیا رہنما منتخب کر لیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہرمز آبنائے سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور عالمی منڈیوں میں بے چینی کے سبب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں، جس نے دنیا بھر کی معیشتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے تشویش کا اظہار، امریکی فوجی اڈوں کو قرار دیا خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال دراصل امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی اور سفارتی دباؤ نے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ”مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا شکست خوردہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی اس جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس اور چین کی ممکنہ مدد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں طاقتیں مختلف طریقوں سے ایران کی معاونت کر رہی ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی بحری سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی ہیں۔