Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔

اڈانی ٹوٹل گیس لمیٹڈ نے اتوار کو اعلان کیا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث جاری سپلائی رکاوٹوں کے درمیان اپسٹریم گیس کی قیمتوں میں کمی کے بعد کمپنی نے کچھ صنعتی صارفین کو فراہم کی جانے والی اضافی قدرتی گیس کی قیمت کم کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں میں ایران کے تقریباً 200 شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اصفہان نمایاں ہے۔ تہران اور مشہد کے بعد اصفہان ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اسے ایران کا اہم صنعتی و فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں میزائل اور دفاعی پیداوار سے متعلق کئی اہم ادارے موجود ہیں، جو شہر کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم مہاجن نے 14 مارچ کو نئی دہلی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث بھارتی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک پانچ بھارتی شہریوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شہری لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

لبنان سے 177 بھارتی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے جبکہ قطر سے بھی 500 سے زائد بھارتی شہری تجارتی پروازوں کے ذریعے ہندوستان روانہ ہو چکے ہیں۔ بھارتی سفارت خانوں نے صورتحال کے پیش نظر ہنگامی ہیلپ لائنیں فعال کر دی ہیں اور شہریوں کے لیے خصوصی سکیورٹی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔