Bharat Express DD Free Dish

West Asia Conflict: مغربی ایشیا کی کشیدگی میں پانچ بھارتی ہلاک، ایک لاپتہ، حکومت نے تیز کر دیں امدادی کارروائیاں

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم مہاجن نے 14 مارچ کو نئی دہلی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث بھارتی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک پانچ بھارتی شہریوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شہری لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور فوجی جھڑپوں کے دوران پانچ بھارتی شہریوں کی ہلاکت جبکہ ایک کے لاپتہ ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ حکومت ہند نے صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں پھنسے بھارتی شہریوں، ملاحوں اور زخمی افراد کی مدد کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق مختلف ممالک میں موجود بھارتی سفارت خانے مسلسل سرگرم ہیں اور شہریوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم مہاجن نے 14 مارچ کو نئی دہلی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث بھارتی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک پانچ بھارتی شہریوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شہری لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمان، عراق اور متحدہ عرب امارات میں موجود بھارتی سفارتی مشن مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے شہریوں کی میتیں ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جلد از جلد بھارت بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام بھارتی مشنز 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں تاکہ مشکل میں گھرے شہریوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ مہاجن نے بتایا کہ وزارت خارجہ سمندری شعبے میں کام کرنے والے بھارتی ملاحوں کی مدد کے لیے بھی سرگرم ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارت خارجہ، وزارت بندرگاہ و جہازرانی کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہی ہے تاکہ سمندر میں موجود بھارتی جہازوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بعض ممالک سے بھارت کے لیے براہ راست پروازیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ خاص طور پر بحرین اور کویت سے بھارت آنے والی پروازوں پر اثر پڑا ہے۔ ایسے حالات میں وہاں موجود بھارتی شہریوں کو متبادل راستوں سے وطن واپس لانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ مہاجن کے مطابق ان شہریوں کو ویزا میں توسیع اور ٹرانزٹ ویزا حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ سعودی عرب کے راستے بھارت واپس جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کسی بھی بھارتی شہری کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے عمان کے سوہار شہر میں پیش آنے والے ایک حملے کا بھی ذکر کیا جس میں دو بھارتی شہری ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں کی حالت اب مستحکم ہے اور کسی کی جان کو فوری خطرہ نہیں ہے۔ بھارتی سفارت خانے کی ٹیم موقع پر موجود ہے اور عمانی حکام، مقامی کمپنیوں اور اسپتالوں کے ساتھ رابطے میں رہ کر متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور ہلاک ہونے والوں کی میتیں جلد از جلد بھارت بھیجنے کے لیے ضروری کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی زخمی افراد کے علاج اور دیکھ بھال کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں بعض امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جس سے اہم سمندری راستوں اور عالمی توانائی کی ترسیل پر اثر پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا۔ اس دوران عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انتونیو گوٹیرس، جو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی اپیل کی ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں موجود اپنے شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور ہر ممکن سفارتی و انتظامی اقدامات کے ذریعے انہیں محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر وطن واپس لانے کی کوشش جاری رکھے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read