نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی دیر رات اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے جاری کشیدگی، بڑھتے فوجی تصادم اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم مودی نے بات چیت کے دوران بھارت کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تنازعہ میں عام شہریوں کا تحفظ سب سے اہم ترجیح ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمنی اور عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جلد ختم ہونا ضروری ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام بحال ہو سکے۔ انہوں نے مذاکرات اور سفارتی حل کو موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا۔
Had a telephone call with PM Benjamin Netanyahu to discuss the current regional situation. Conveyed India’s concerns over recent developments and emphasised the safety of civilians as a priority. India reiterates the need for an early cessation of hostilities.@netanyahu
— Narendra Modi (@narendramodi) March 1, 2026
اسی سلسلے میں وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان سے بھی گفتگو کی اور متحدہ عرب امارات پر حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس مشکل وقت میں امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر اعظم نے وہاں مقیم بھارتی برادری کی سلامتی کو یقینی بنانے پر اماراتی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے علاقائی امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
دریں اثنا خطے میں کشیدگی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے اور ایران کے حملوں کی اطلاعات عمان تک پہنچنے کی خبر سامنے آئی ہے، جو اب تک تنازعہ سے نسبتاً دور سمجھا جاتا تھا اور مغربی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کا اہم مرکز مانا جاتا رہا ہے۔ ادھر سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت ریاض اور مشرقی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان کی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا گیا۔
علاقائی ممالک نے بھی دفاعی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ اردن، کویت، بحرین اور قطر نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کو کامیابی سے روک لیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ان حملوں کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے خلیجی ممالک سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث پورے خطے میں سلامتی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت نے واضح کیا ہے کہ اس کی اولین ترجیح شہریوں کا تحفظ اور خطے میں امن کی بحالی ہے، جبکہ وزیر اعظم مودی کی مسلسل سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بھارت مشرقِ وسطیٰ میں مکالمے اور استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


