Bharat Express DD Free Dish

Maulana Tauqeer Raza Khan

سپریم کورٹ نے یوگی حکومت کے نام کی تختی کے حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔ اس سلسلے میں اتر پردیش کو نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کیا ہے۔

بریلی کے مولانا توقیررضا خان نے 21 جولائی کو 5 ہندو جوڑوں کا نکاح اور مذہب تبدیلی کرانے کے لئے پروگرام کے لئے ضلع انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی، جوکہ نہیں ملی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نکاح کروانے کا پروگرام منسوخ کردیا ہے۔

جب بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ سے مولانا توقیر رضا کے مذہب تبدیل کرنے کے اعلان کے متعلق پوچھا گیا تو وہ برہم ہوگئے۔ مولانا کے اس بیان پر انہوں نے ہندوؤں کے صبر کا امتحان لینے کی بات بھی کی۔

مولانا توقیر رضا نے کہا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان جوڑوں کی شناخت عام نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی 23 درخواستیں ہیں جن میں لوگوں نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

پولیس تاحال مولانا توقیر رضا تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران مولانا توقیر رضا کے پیش نہ ہونے پر پولیس اور انتظامیہ کی سرزنش کی تھی۔ تب عدالت نے ایس پی کو انہیں گرفتار کرنے کی ہدایت دی تھی۔

توقیر رضا نے الزام لگایا کہ ملک میں یکساں سول کوڈ پہلے سے نافذ ہے۔ بی جے پی کے دور سے نہیں بلکہ اس سے پہلے سے ہی۔ مسلم پرسنل لاء بورڈہے، عدالت موجود ہے۔ ایک قانون ہے، پھر بھی ہمارے تمام مقدمات جو عدالت میں جاتے ہیں ان کا فیصلہ یو سی سی کے تحت ہوتا ہے۔

یوپی پولیس نے مولانا توقیر رضا خان کے جیل بھرو آندولن کوپولیس نے روک دیا ہے۔ انہیں اسلامیہ انٹرکالج کی طرف نہیں جانے دیا گیا۔ اس کے بعد مولانا توقیر رضا خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ زیادتی اور ظلم دیکھا، ہمارے لوگوں کو زبردستی روکا گیا۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔

اتحاد ملت کونسل (آئی ایم سی) کی جانب سے جیل بھرو آندولن  کے لئے پرچے تقسیم کئے گئے ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے اس کے لئے سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے ہیں۔

مولانا توقیر رضا نے گیانواپی کیس کے حوالے سے بھی کئی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ الزام لگاتے ہوئے انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گیانواپی مسجد پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مولانا توقیر رضا خان نے کہا کہ چند ماہ قبل میوات میں جو فساد برپا کیا گیا اس کے ذمہ دار ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ اے ایم یو کے طلبا پر جو مقدمہ درج کیا گیا ہے انہوں فوری طور پر واپس لیا جائے،توقیر رضا خان نے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم کو فلسطینیوں کا درد، ان کے آنسو اور ان کی مظلومیت کیوں نظر نہیں آتی ہے ؟