Bharat Express DD Free Dish

Maulana Mahmood Madni

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر جمعیۃ کے مرکزی دفتر نئی دہلی میں وقف (ترمیمی) بل سے متعلق ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مختلف ملی تنظیموں کے سربراہان ، سیاسی و سماجی شخصیات اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔

سابق راجیہ سبھا رکن اورجمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے وقف سے متعلق سوال پر کہا کہ اگرمعاملہ مسلمانوں سے متعلق تو تو ان سے بات کی جانی چاہئے۔ مسلمانوں سے بات کئے بغیر ہی وقف میں ترمیم کیا جا رہا ہے۔

جمعیۃ علما ء ہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے سپریم کورٹ کی جانب سے ریاستوں کے لئے گائیڈلائن مرتب کرنے کے فیصلے کوخوش آئند قراردیا ہے۔

تین ریاستوں میں بلڈوزر کارروائی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے سوال اٹھایا ہے کہ محض ملزم ہونے پر کسی کے خلاف بلڈوزر کارروائی کیسے کی جاسکتی ہے؟

اترپردیش، مدھیہ پردیش اورراجستھان میں ملزمین پرحال ہی میں بلڈوزر کارروائی کی گئی، جس کے خلاف اب جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ ساتھ ہی جمعیۃ علماء ہند نے الزام لگایا ہے کہ اقلیتی طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال این سی پی سی آرکے خط و کتابت کی بنیاد پر یوپی حکومت نے26جون 2024 کوہدایت جاری کی ہے کہ امدادیافتہ اور تسلیم شدہ مدارس میں داخل غیر مسلم طلبہ کو علیحدہ کیا جائے اوران کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کیا جائے۔

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی مجلس منتظمہ کا اہم اجلاس اس کے صدردفتر نئی دہلی میں آج صبح شروع ہوا، جس میں ملک بھر سے جمعیۃ علماء ہند کے تقریباََ دو ہزاراراکین ومشاہیرنے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت مولانا محمود اسعد مدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کررہے ہیں۔ اجلاس کی پہلی نشست میں ملک …

این سی پی سی آر کے چیئرمین پریانک کانونگو نے این آئی اوایس کو خط  لکھ جمعیۃ علماء ہند کے تعلیمی ادارہ ’جمعیۃ اوپن اسکول‘ کی مہم کو’منظم جرم‘ سے تعبیرکیا تھا۔ نیز اس پر بیرون ملک سے  فنڈ حاصل کرنے بالخصوص پاکستان سے تعلق ہونے کا بے بنیاد الزام عائدکیا تھا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدراورسابق رکن پارلیمنٹ مولانا محمود مدنی سے ایس ٹی ایف پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لکھنؤ میں ایس ٹی ایف نے ان سے 6 گھنٹے سے پوچھ گچھ کی ہے۔

اترپردیش میں حلال سرٹیفکیشن والے پروڈکٹس سے متعلق کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ کچھ اداروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھی۔