Bharat Express DD Free Dish

Maulana Mahmood Madni

صدسالہ تقریبا ت کے تحت جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام مدنی ہال دفتر جمعیۃ علماء ہند میں مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی ؒ پر دو روزہ سیمینار کا باضابطہ آغاز عمل میں آیا۔ آج کی پہلی نشست کی صدارت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم دیوبند نے کی، جبکہ دوسری نشست کی صدارت مولانا رحمت اللہ میر کشمیری صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند نے کی ۔

’آزادی کی آواز – ہندوستان کے ورثے کا جشن ‘ کے عنوان سے عظیم الشان  اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند نے مسلمانوں  کو تعلیم، تنظیم اور تجارت پر زور دینے کی تلقین کی او رکہا کہ ہمیں اچھے کردار سے نفرت کو مٹانا ہوگا ۔

مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کو فوری طور واپس لے اور پر امن مظاہرے کو روکنےسے باز آئے ، مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف کارروائی ،یکساں سول کوڈ، بلڈوزر کارروائی کو آئین مخالف عمل قرار دیا، فلسطین کے معاملے میں بھارت سرکار سے مداخلت کی گزارش۔ جمعیۃ کی رواں ممبر سازی کی مدت میں بھی توسیع

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پران بے گناہ افراد کو قانونی مدد فراہم کی گئی۔ کڑکڑ ڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پلاستیہ پرماچالا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پر ببوکے قتل میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے حکومتوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی گئی تو ہم آپ سے آئین کی حد میں آخر دم تک لڑتے رہیں گے۔

جمعیت علماء ہند کا کہنا ہے کہ مولانا محمود مدنی سنبھل کے حالات سے بہت غمزدہ ہیں، اس لئے چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا از خود ان حالات کا نوٹس لیں۔ جمعیت آئین کے محافظ چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس آئی ہے اورامید کرتی ہے کہ وہ انصاف کے علمبردار کے طورپراس درخواست پرفوری غورکریں گے۔

مولانا مدنی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام افراد کو معاوضہ دیا جائے جن کی املاک بغیر مناسب قانونی عمل کے منہدم کی گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہےاور ان کے خلاف کسی بھی غیر آئینی اقدام کو روکا جانا ضروری ہے۔

مدنی نے کہا کہ جس طرح فرقہ پرست طاقتیں اور اقتدار میں بیٹھے کئی وزراء کھلے عام تشدد کی اپیل کر رہے ہیں اور مدارس کے وجود پر حملہ کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کا یہ بیان ایک اہم پیغام ہے۔

جمعیۃ علماء ہند جدید تعلیم کوفروغ دینے کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی اوایس) سے منسلک جمعیۃ اسٹڈی سینٹرچلا رہی ہے، جہاں 15 ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کوروایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید مضامین کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا جمعیۃ علماء ہند کی طویل آئینی جدوجہد رنگ لائی۔ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہماری لڑائی لاکھوں انسانوں کے لیے تھی، جس میں ہمیں کامیابی ملی۔