Bharat Express DD Free Dish

Mann Ki Baat

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سولر پمپ کے ذریعے کسان باقاعدگی سے کھیتوں کی سیرابی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار اور معیار دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ یہ پمپ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم کر کے لاگت گھٹاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پی ایم مودی نے بتایا کہ سولر پاور سے کسانوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ سولر پمپ اور سولر رائس ملز کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھی ہے۔ انہوں نے بہار کی دیوکی جی کا ذکر کیا جنہیں اب محبت سے ’سولر دیدی‘ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ:"اب تک ایسے امیدواروں کو دیگر امتحانات کے لیے نئے سرے سے تیاری کرنی پڑتی تھی، جو وقت اور وسائل دونوں کا زیاں تھا۔ لیکن ‘پرتیبھا سیتو’  کے ذریعے ان کی محنت کا مناسب استعمال ممکن ہو سکے گا۔"

پی ایم  مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں فوج، مقامی افراد، سماجی کارکنوں، ڈاکٹروں اور انتظامیہ نے مثالی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ہر اس شہری کا دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے انسانیت کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر مدد کی۔

پروگرام میں اب تک صفائی مہم (سوچھ بھارت ابھیان)، ماحولیات، ڈیجیٹل تعلیم، خواتین کا بااختیار بنانا اور گراس روٹ سطح پر اختراعات جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ اس کے اثرات کی بدولت کئی تحریکیں عوامی شمولیت کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر ثابت ہوئیں۔

چونکہ گوا شادیوں کے لیے ایک مقبول مقام ہے، اس لیے وہاں کی انڈسٹری چاہتی ہے کہ حکومت ضوابط میں نرمی کرے۔ Travel and Tourism Association of Goa نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ "Wed-In-Goa" پالیسی کے تحت ایک سنگل ونڈو سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ شادیوں اور آؤٹ ڈور ایونٹس کے لیے اجازت ناموں کے پیچیدہ عمل کو آسان بنایا جا سکے۔

اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ایل مروگن نے ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ملک کے میٹرو شہروں سے لے کر دور دراز دیہاتوں تک کے سامعین اس پروگرام کو روایتی اور ڈیجیٹل دونوں پلیٹ فارمز کے ذریعے سنتے ہیں۔

لکھنؤ کی گومتی ندی کی ٹیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ ٹیم پچھلے 10 سالوں سے ہر اتوار کو صفائی مہم میں لگاتار لگی ہوئی ہے۔ پی ایم نے چھتیس گڑھ کے بلہا کی خواتین کی بھی تعریف کی جنہوں نے کچرے کے انتظام کی تربیت لے کر شہر کی تصویر بدل دی۔

پی ایم مودی نے کہا کہ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس شمار میں پرندوں کی 40 سے زائد اقسام کی نشاندہی کی گئی جن میں کئی نایاب پرندے بھی شامل ہیں۔ یہ سب ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن ہوا۔ ٹیم نے آواز ریکارڈ کرنے والے آلات نصب کیے اور پھر ان آوازوں کا تجزیہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے ذریعے کمپیوٹر پر کیا گیا۔

قومی خلائی دن کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگلے ماہ 23 اگست کو قومی خلائی دن ہے۔ آپ اسے کیسے منائیں گے؟ کیا آپ کے پاس کوئی نیا آئیڈیا ہے؟ اگر ہاں، تو مجھے نمو ایپ پر ایک پیغام ضرور بھیجیں۔