Bharat Express DD Free Dish

Mann Ki Baat

منوج تیواری نے کہا کہ 21 جون کو بین الاقوامی یوگا ڈے کے موقع پر سونیا وہار کے جمنا کنارے پر یوگا پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے بھی شرکت کی۔

ہریانہ کی آبپاشی اور آبی وسائل کی وزیر شروتی چودھری  نے کہا کہ 'من کی بات' پروگرام ایک طاقتور اور منفرد پلیٹ فارم ہے، جو وزیر اعظم کو براہ راست عام لوگوں سے جوڑتا ہے اور ملک بھر کے شہریوں کو تحریک اور سمت فراہم کرتا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ میں آپ سب سے یہ بھی اپیل کروں گا کہ ایری سلک سے بنے کپڑوں کو ضرور ٹرائی کریں، اور ہاں، کھادی، ہینڈلوم ہینڈی کرافٹ، ووکل فور لوکل کو بھی آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔ اگر گاہک صرف ہندوستان میں بنی ہوئی مصنوعات خریدتے ہیں اور تاجر صرف ہندوستان میں بنی ہوئی مصنوعات فروخت کرتے ہیں، تو ’آتمنربھر بھارت ابھیان‘ کو نئی توانائی ملے گی۔

وزیر اعظم نے کرناٹک میں کلبرگی کی خواتین کی بھی تعریف کی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ کلبورگی کی خواتین نے جوار کی روٹی کو ایک برانڈ کی شکل دی۔ انہوں نے ایک کوآپریٹو سوسائٹی بنائی ہے، جس میں روزانہ تین ہزار سے زیادہ جوار کی روٹیاں بن رہی ہیں۔ ان روٹیوں کی خوشبو اب نہ صرف دیہاتوں میں بلکہ بنگلورو جیسے میٹرو میں بھی پھیل رہی ہے۔

پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر ہم وطنوں نے اس دور کے ظلم کو یاد کرنے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے چوکس رہنے کے لیے ’سمویدھان ہتیہ دیوس‘ منایا۔ انہوں نے ان تمام ہیروز کو یاد کرنے پر زور دیا جنہوں نے ایمرجنسی کا بہادری سے مقابلہ کیا اور آئین کو مضبوط رکھنے میں اپنا حصہ ڈالا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے 122 ویں ایپی سوڈ میں شہد کی مکھیوں کا ذکر بھی کیا اور ملک میں شہد کی بڑھتی ہوئی پیداوار پر خوشی کا اظہار کیا۔

’’من کی بات‘‘ کے 122 ویں ایپی سوڈ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کھیلو انڈیا گیمز کے جوش و خروش اور نوجوان صلاحیتوں کی کامیابیوں کو ہم وطنوں کے ساتھ شیئر کیا۔

وزیر اعظم نے کوہ پیماؤں کی بے مثال ہمت اور لگن کی کہانی سنا کر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ری سائیکلنگ کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا، ’’اب سوچئے، جب کوہ پیما ایسے مشکل حالات میں کچرا واپس لا سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے گھر یا دفتر میں کاغذ الگ کرکے ری سائیکلنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیے۔ جب ملک کا ہر شہری یہ سوچے گا کہ ملک کے لیے میں کیا بہتر کر سکتا ہوں، تبھی مل کر ہم بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔‘‘

پی ایم مودی نے کہا کہ کچھ خاندانوں نے عہد لیا ہے کہ ہم اپنی اگلی چھٹیاں ملک کے کسی خوبصورت مقام پر گزاریں گے۔ کئی نوجوانوں نے ’ویڈ ان انڈیا‘ کا عہد کیا ہے، وہ ملک میں ہی شادی کریں گے۔ کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ اب جو بھی تحفہ دیں گے، وہ کسی ہندوستانی کاریگر کے ہاتھوں سے بنا ہوگا۔

مرکزی حکومت نے اس علاقے میں ماؤ ازم پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس گاؤں میں 20 مئی کو بس سروس شروع ہوئی جس سے گاؤں والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مرکزی حکومت نے ماؤنواز سے متاثرہ علاقوں میں خاص طور پر چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، بہار اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، چھتیس گڑھ پولیس اور دیگر خصوصی دستوں نے مشترکہ آپریشن کیا ہے۔