Bharat Express DD Free Dish

Mann Ki Baat

’’من کی بات‘‘ کے 122 ویں ایپی سوڈ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کھیلو انڈیا گیمز کے جوش و خروش اور نوجوان صلاحیتوں کی کامیابیوں کو ہم وطنوں کے ساتھ شیئر کیا۔

وزیر اعظم نے کوہ پیماؤں کی بے مثال ہمت اور لگن کی کہانی سنا کر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ری سائیکلنگ کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا، ’’اب سوچئے، جب کوہ پیما ایسے مشکل حالات میں کچرا واپس لا سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے گھر یا دفتر میں کاغذ الگ کرکے ری سائیکلنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیے۔ جب ملک کا ہر شہری یہ سوچے گا کہ ملک کے لیے میں کیا بہتر کر سکتا ہوں، تبھی مل کر ہم بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔‘‘

پی ایم مودی نے کہا کہ کچھ خاندانوں نے عہد لیا ہے کہ ہم اپنی اگلی چھٹیاں ملک کے کسی خوبصورت مقام پر گزاریں گے۔ کئی نوجوانوں نے ’ویڈ ان انڈیا‘ کا عہد کیا ہے، وہ ملک میں ہی شادی کریں گے۔ کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ اب جو بھی تحفہ دیں گے، وہ کسی ہندوستانی کاریگر کے ہاتھوں سے بنا ہوگا۔

مرکزی حکومت نے اس علاقے میں ماؤ ازم پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس گاؤں میں 20 مئی کو بس سروس شروع ہوئی جس سے گاؤں والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مرکزی حکومت نے ماؤنواز سے متاثرہ علاقوں میں خاص طور پر چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، بہار اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، چھتیس گڑھ پولیس اور دیگر خصوصی دستوں نے مشترکہ آپریشن کیا ہے۔

پی ایم مودی نے بیکانیر کے دورے کے دوران بچوں سے اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں ابھی تین دن پہلے بیکانیر گیا تھا۔ وہاں بچوں نے مجھے ایسی ہی ایک پینٹنگ پیش کی۔ آپریشن سندور نے ملک کے لوگوں کو اتنا متاثر کیا ہے کہ کئی خاندانوں نے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ بہار کے کٹیہار، یوپی کے کشی نگر اور دیگر کئی شہروں میں، اس دوران پیدا ہونے والے بچوں کا نام ’سندور‘ رکھا گیا ہے۔‘‘

پی ایم مودی نے کہا کہ آج ہندوستان کا نوجوان سائنس، ٹیکنالوجی اور  انویشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان علاقوں میں بھی جو پہلے پسماندگی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، نوجوانوں نے ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ ہمارا نظریہ بدل گیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا، "چاہے وہ کسی بھی ریاست سے تعلق رکھتے ہوں، چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں، وہ ان لوگوں کا درد محسوس کر رہے ہیں،

ریڈیو پروگرام کے دوران پی ایم مودی نے کہا، "ہمارے دیسی کھیل اب مقبول ہو رہے ہیں اور ثقافت کا حصہ بن رہے ہیں۔ آپ سبھی مشہور ریپر ہنومان کائنڈ کو ضرور جانتے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے اس دور میں بچوں کے پاس بہت سے ایسے پلیٹ فارم ہیں، جہاں سے وہ بہت سی نئی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی ادارہ ٹیکنالوجی کیمپ چلا رہا ہے، تو بچے وہاں اوپن سورس یا ایپ بنانا سیکھ سکتے ہیں۔ بچے بہت سے مختلف علاقوں میں بھی جا سکتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ، کوئی بہت سے رضاکارانہ سرگرمیوں میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔

جرمن گلوکارہ نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اتنے بڑے لیڈر ہونے کے بعد بھی جب میرا نام اپنے پروگرام میں لیا تو یہ میرے لئے بڑی حصولیابی تھی۔ اس کے بعد سے میرے پاس ہر روز 12-10 کال انٹرویو کے لئے آنے لگے۔