’’من کی بات‘‘ کے 122 ویں ایپی سوڈ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کھیلو انڈیا گیمز کے جوش و خروش اور نوجوان صلاحیتوں کی کامیابیوں کو ہم وطنوں کے ساتھ شیئر کیا۔ انھوں نے کہا کہ بہار کے پانچ شہروں میں حال ہی میں منعقدہ کھیلو انڈیا گیمز میں پورے ہندوستان سے 5000 سے زیادہ کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ان کھلاڑیوں نے بہار کی مہمان نوازی اور کھیل کود کی تعریف کی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا ’’حال ہی میں کھیلو انڈیا گیمز بہت کامیاب ہوئے۔ ’کھیلو انڈیا‘ کے دوران بہار کے پانچ شہروں نے اس کی میزبانی کی، جہاں مختلف زمروں کے میچز منعقد کیے گئے۔ پورے ہندوستان سے وہاں پہنچنے والے کھلاڑیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ تھی۔ ان کھلاڑیوں نے بہار کی کھیلوں کی مہارت اور بہار کے لوگوں کی گرم جوشی کی تعریف کی ہے۔‘‘
بہار کی سرزمین نے کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کو بنایا خاص: وزیر اعظم مودی
پی ایم مودی نے کہا کہ بہار کی سرزمین نے اس تقریب کو اور بھی خاص بنا دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کو اولمپک چینل کے ذریعے دنیا بھر میں نشر کیا گیا۔ دنیا نے ہندوستان کے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو دیکھا اور ان کی تعریف کی۔ اس ایونٹ میں مہاراشٹر، ہریانہ اور راجستھان ٹاپ تین فاتحین میں شامل تھے، جنھیں وزیر اعظم نے خصوصی طور پر مبارکباد دی۔
واضح رہے کہ اس بار کھیلو انڈیا میں کل 26 ریکارڈ بنائے گئے جو کہ ہندوستانی کھیلوں کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ ہے۔ ویٹ لفٹنگ میں مہاراشٹر کی اسمیتا دھونے، اڈیشہ کے ہرش وردھن ساہو اور اتر پردیش کے تشار چودھری نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے سائراج پردیسی نے تین ریکارڈ بنا کر تاریخ رقم کی۔ ایتھلیٹکس میں اتر پردیش کے قادر خان اور شیخ ذیشان اور راجستھان کے ہنس راج نے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
دریں اثنا بہار نے بھی 36 تمغے جیت کر اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ’’جو کھیلتا ہے وہی کھلاتا ہے۔‘‘ اس طرح کے ٹورنامنٹ نوجوان ٹیلنٹ کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیوں کہ یہ ایونٹس نہ صرف کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں بلکہ ہندوستانی کھیلوں کے مستقبل کی تشکیل بھی کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

