Bharat Express

Manipur Violence

منی پور میں صدر راج کے نفاذ کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے آج یعنی ہفتہ کو پہلی میٹنگ بلائی ہے۔ یہ جائزہ میٹنگ صبح 11 بجے نارتھ بلاک ہوم منسٹری میں منعقد ہوگا۔

تشدد مئی 2023 میں منی پور میں کوکی اور میتی کمیونٹی کے درمیان کشیدگی کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ریاست میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ یہی نہیں تشدد کے دوران فسادیوں نے ہزاروں گھروں کو آگ لگا کر تباہ بھی کر دیا۔ ان میں کئی ایم ایل اے، وزرا اور مشہور شخصیات کے گھر بھی شامل ہیں۔

منی پور میں صدر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل 9 فروری کو ریاست کے سی ایم بیرین سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

کچھ دن پہلے ہی منی پور کے وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ سے  تشدد کے لئے معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ سال 2025 امن وامان لائے گا۔

مقامی لوگوں نے کہا کہ خواتین سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے کمیونٹی بنکروں پر زبردستی قبضے کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئی تھیں۔ کوکی برادری کے ایک لیڈر نے الزام لگایا کہ صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

منی پور کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے منگل کے روز ریاست میں نسلی تنازعہ کے لیے معافی مانگی اور تمام برادریوں سے اپیل کی کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو بھول کر ایک پرامن اور خوشحال ریاست میں مل جل کر رہیں۔ ریاست میں نسلی تنازعہ میں 250 سے زائد افراد کی جان جا چکی ہے اور ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔

تشدد کا آغاز جنوری میں گاؤں والوں پر حملوں سے ہوا اور اپریل میں عام انتخابات کے دوران اس میں اضافہ ہوا۔ اس دوران دھمکیاں اور بڑے پیمانے پر تشدد دیکھا گیا۔ جون میں آسام کی سرحد سے متصل ضلع جیری بام میں قتل کے سلسلے کے ساتھ بحران اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اس نے مزید نسلی تشدد کو جنم دیا۔ جیسے جیسے کشیدگی بڑھی، بم دھماکوں اور راکٹ حملوں کا ایک سلسلہ شہری علاقوں میں دیکھا گیا۔ اس سے کمیونٹیز خوفزدہ اور تقسیم ہو گئے۔

علاج کے دوران ڈاکٹروں نے دونوں مزدوروں کو مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے اس واقعہ کی روشنی میں مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

منی پور ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ اضلاع کے تمام سرکاری، نجی اور مرکزی اسکولوں میں 29 نومبر سے  کلاسیز دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا، "ہم مسلسل وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں، وزیر اعلیٰ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے اپنے آئینی فریضہ کی ادائیگی میں بری طریقے سے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔