Bharat Express DD Free Dish

manipur crisis

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منی پور کے وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ کو ریاست میں امن، استحکام اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے مرکز کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ گھر کے اندر دو کمسن بچوں کا درد ناک قتل، مظاہروں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں۔ اس سے انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کوئی بھی ہو اس طرح کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔

منی پور کے امپھال میں یہ حادثہ دوپہر ایک بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب مشتبہ عسکریت پسندوں کی طرف سے پھینکا گیا ایک بم موئرانگ ٹرونگلا اوبی میں ایک مکان پر گرا۔ دھماکہ میں ایک پانچ سالہ لڑکا اور 6 ماہ کی بچی جاں بحق ہوگئے۔

سپریم کورٹ نے منی پور میں نسلی تشدد سے متعلق معاملات میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اندر تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ تشدد کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

قبل ازیں، 21 ایم ایل ایز نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ شمال مشرقی ریاست میں امن اور معمول کو یقینی بنانے کے لیے 'مستحکم حکومت' تشکیل دیں۔ خط پر بی جے پی کے 13، این پی پی-ناگا پیپلز فرنٹ کے تین تین اور اسمبلی کے دو آزاد ارکان کے دستخط تھے۔

گزشتہ سال مرکزی حکومت نے بھارت اور میانمار کے درمیان 1610 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے اور سڑکوں کی تعمیر کو منظوری دی تھی۔ حکومت نے یہ فیصلہ منی پور میں دراندازی کو روکنے کے لیے کیا تھا۔

وزارت داخلہ نے ہفتہ کو نئی دہلی میں میتئی اور کوکی-زو تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ تقریباً دو سال قبل منی پور میں شروع ہونے والے نسلی تنازعہ کو حل کیا جا سکے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے ہدایت دی کہ 8 مارچ 2025 سے منی پور کی تمام سڑکوں پر لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

علاج کے دوران ڈاکٹروں نے دونوں مزدوروں کو مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے اس واقعہ کی روشنی میں مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی الیکشن میں جہاں ایک طرف بی جے پی حکومت بنانے کا دعویٰ کررہی ہے، تووہیں دوسری طرف ایک ریاست میں بی جے پی کے 19 اراکین اسمبلی میٹنگ میں ہی نہیں آئے۔ اس کے بعد کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔