دہلی کی عدالت کا بڑا فیصلہ
20 مارچ کو مرکزی وزارت قانون کی طرف سے پارلیمنٹ کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018 بعد سے تقرری پانے والے ہائی کورٹ کے تمام ججوں میں سے تقریباً 77% کا تعلق اعلیٰ ذات کی برادریوں سے تھا۔ راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارت نے کہا کہ تقرریوں کا ذات کے لحاظ سے ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کا تقرر آئین کی ان دفعات کے تحت کی جاتا ہے جو ذات پات کی بنیاد پر تحفظات فراہم نہیں کرتے ہیں۔
تاہم 2018 سے ہائی کورٹ کے جج کے عہدوں کے لیے نامز کیے جانے والوں کو اپنے سماجی پس منظر کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ لہٰذا مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار ججز کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ میگھوال نے کہا کہ 2018 سے ہائی کورٹ میں مقرر کیے گئے 715 ججوں میں سے 551 کا تعلق جنرل زمرے سے ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 715 ججوں میں سے 22 (3%) کا تعلق درج فہرست ذات برادری سے ہے، جب کہ 16 (2.2%) درج فہرست قبائل اور 89 (12.4%) دیگر پسماندہ طبقات سے ہیں۔ وہیں دی اسکرول کی خبر کےمطابق مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ججوں کی تعداد محض پانچ فیصد رہی۔
قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بھی اگست 2023 میں اسی طرح کا ڈیٹا پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آیا مرکزی حکومت نے عدالتی تقرریوں میں سماجی تنوع کو شامل کرنے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے سپریم کورٹ کی پیروی کی یا نہیں؟ وزارت نے 20 مارچ کو کہا کہ تجاویز شروع کرنے کی ذمہ داری سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کو ان کی سطح پر دی گئی ہے۔ وزارت نے مزید کہا: ’’تاہم حکومت ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں سے درخواست کر رہی ہے کہ ججوں کی تقرری کے لیے تجاویز بھیجتے وقت، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور خواتین سے تعلق رکھنے والے موزوں امیدواروں پر مناسب غور کیا جائے تاکہ ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری میں سماجی تنوع کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


