Bharat Express DD Free Dish

High Courts

حکومت کے مطابق، 2011 سے اب تک عدالتی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی پر 9,800 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کے باوجود بھارت کا عدالتی نظام اب بھی زیر التوا مقدمات کے بڑے بوجھ سے دوچار ہے۔

سپریم کورٹ نے اشتعال انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) سے متعلق دائر تمام عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے موجودہ قانونی ڈھانچہ کافی ہے اور عدالت مزید ہدایات جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ملک بھر کی ہائی کورٹس میں ضمانت سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی آزادی سے وابستہ معاملات کو طویل مدت تک مؤخر کرنا آئینی روح کے خلاف ہے اور ایسی روش اب قابل قبول نہیں ہوگی۔

20 مارچ کو مرکزی وزارت قانون کی طرف سے پارلیمنٹ کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018 بعد سے تقرری پانے والے ہائی کورٹ کے تمام ججوں میں سے تقریباً 77% کا تعلق اعلیٰ ذات کی برادریوں سے تھا۔

دفعہ 302 - سب جانتے ہیں کہ پہلے قتل کے مقدمات میں سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی تھی، لیکن اب ایسے مجرموں کو دفعہ 101 کے تحت سزا دی جائے گی۔

ہردیال پبلک اسکول، جھجھر کے پرنسپل نے کہا ہے کہ ان کا کوئی طالب علم امتحان دینے میں دیر سے نہیں آیا، تو سوال یہ ہے کہ پھر گریس نمبر کیوں دیے گئے۔

جمعرات کو منظور کیے گئے اپنے حکم کے پیش نظر، عدالت عظمیٰ نے NTA کو ہائی کورٹس میں زیر التوا گریس مارکس کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی منتقلی سے متعلق اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں کیسینو، آن لائن گیمنگ اور ہارس ریسنگ پر 28 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اعلان سے پہلے آن لائن گیمنگ، کیسینو اور ہارس ریسنگ پر 18 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جاتا تھا۔