Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra Politics

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ہفتہ کو بی جے پی لیڈر چندر شیکھر باونکولے نے کہا کہ 90 فیصد سیٹوں پر بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور بقیہ 10 فیصد اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جائیں گی۔

این سی پی (ایس) لیڈر شرد پوار نے ایک بار پھر انتخابی نشان کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ شرد پوار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی طرف سے اجیت پوار کو جاری کردہ انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس نے بھی بدلا پور انکاؤنٹر پر اپنی رائے ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم انکاؤنٹر پر یقین نہیں رکھتے۔ میرا ماننا ہے کہ کسی نہ کسی قانون پر عمل ہونا چاہیے اور مجرم کو اس کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

شندے دھڑے کے ایم ایل اے گائکواڑ نے کہا کہ اگر کانگریس کا کوئی کتا میرے پروگرام میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو میں اسے وہیں دفن کر دوں گا۔

ایک ویڈیو میں یامنی جادھو برقعے بانٹتی نظر آرہی ہیں، جب کہ دوسری ویڈیو میں وہ کہہ رہی ہیں کہ یہ تقسیم آئندہ ریاستی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کی جارہی ہے۔ شیوسینا رکن اسمبلی یامنی جادھو نے ویڈیو میں کہا کہ اگر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ برقع، حجاب تقسیم کرنے سے یامنی جادھو انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایسا قدم اٹھا رہی ہیں۔

اجیت پوار کا درد ایک بار پھر سامنے آیا ہے، وہ پرانا زخم جس نے خاندان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ گڑھ چرولی میں میٹنگ میں اجیت پوار نے خاندان کو سیاست سے بالاتر قرار دیا اور اپنے وزیر کی بیٹی کو سمجھایا کہ خاندان کو توڑنے کی غلطی سماج کو پسند نہیں ہے۔

مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے ہزاروں کارکنوں نے اتوار کو چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کے گرنے پر اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے گیٹ وے آف انڈیا کی طرف مارچ شروع کیا۔

سنجے راوت نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ صرف سات ماہ میں گر گیا، تو کیا ہمیں خاموش رہنا چاہیے؟ ہم آج شیواجی مہاراج کے اعزاز میں احتجاج کرنے جارہے ہیں۔ راوت نے کہا، دیویندر فڑنویس، آپ مہاراشٹر کے ولن ہیں۔

ساحلی سندھو درگ ضلع کے راجکوٹ قلعے میں مراٹھا واریرچھترپتی شیواجی مہاراج کا 35 فٹ اونچا مجسمہ گر گیا تھا۔ بھارتی بحریہ کی جانب سے بنائے گئے اس مجسمے کی تقریباً 9 ماہ قبل وزیراعظم نریندر مودی نے نقاب کشائی کی تھی۔

سیاسی ہنگامہ آرائی کے درمیان مرکزی حکومت کی جانب سے پی ایم مودی نے معافی مانگ لی ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے کئی بڑے لیڈروں نے معافی مانگی ہے، وہیں کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے معافی مانگنے پر حملہ کیا ہے۔