Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra Assembly Election 2024

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کانگریس کے لیے ملک کے لوگ نہیں بلکہ اپنا خاندان اہم ہے۔ جنوب میں جا کر شمال کو گالی دو، شمال میں جا کر جنوب کو گالی دو اور بیرون ملک جا کر ملک کو گالی دو۔ یہ کانگریس خاندان کی سچائی بن گئی ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اپوزیشن  ابھی بھی عوام کے  موڈ کو نہیں سمجھ پائی  ہے۔ وہ سچائی کو قبول نہیں کرنا چاہتی۔ ملک کے ووٹر عدم استحکام نہیں چاہتے، وہ نیشن فرسٹ کے جذبے سے جیتے ہیں۔ ملک کی ہر ریاست کے ووٹر دوسری ریاستوں کی حکومتوں کا اندازہ لگاتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہاراشٹر کی جیت یہ ثابت کرتا ہے کہ جب گڈ گورننس کی بات آتی ہے تو ملک صرف اور صرف بی جے پی اور این ڈی اے پر بھروسہ جتاتا ہے۔ مہاراشٹر ملک کا چھٹا صوبہ ہے جس نے بی جے پی کو مسلسل تین بار کامیابی دلائی ہے۔

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں سب سے اچھی کارکردگی بی جے پی کی رہی ہے، جسے اکیلے ہی 132 سیٹیں مل رہی ہیں۔ بی جے پی کا اسٹرائیک ریٹ سب سے زیادہ ہے، اور این سی پی شرد کا اسٹرائیک ریٹ سب سے کم ہے۔

مہاراشٹرمیں مہایوتی کی جیت میں بی جے پی کا اسٹرائیک ریٹ سب سے زیادہ شاندارہے۔ اس جیت پر دیویندر فڑنویس کا ردعمل آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہیں توسیف ہیں اورمودی ہیں توممکن ہے۔

نارائن رانے کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب مہاراشٹر حکومت الیکشن کے نتائج میں کچھ ہی گھنٹوں کا وقت رہ گیا ہے۔ نتائج سے پہلے ان کا یہ بیان کافی اہم مانا جا رہا ہے۔

بی جے پی لیڈرونود تاؤڑے نے ووٹنگ والے دن ان الزامات کوخارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ضوابط اچھی طریقے سے معلوم ہیں اوروہ بے وقوف نہیں ہیں کہ وہ ہوٹل میں ایسا کام کریں گے۔

مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے بیشتر ایگزٹ پولز میں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کو اکثریت ملنے کا امکان ہے۔ میٹریس کے ایگزٹ پول کے مطابق مہایوتی کو 150-170 سیٹیں مل سکتی ہیں اور ایم وی اے کو 110-130 سیٹیں مل سکتی ہیں۔

مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں ووٹنگ کے بعد اب باری ایگزٹ پول کی ہے۔ مہاراشٹراور جھارکھنڈ میں دو طرح کے ایگزٹ پول دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ ایگزٹ پول میں دونوں ریاستوں میں بی جے پی الائنس کی حکومت بننے جا رہی ہے، جبکہ کچھ ایگزٹ پول میں انڈیا الائنس کی حکومت بن سکتی ہے۔

حالانکہ سال 2019 میں بھی کچھ اسی رفتار سے ووٹنگ ہوئی تھی اور 61فیصد رائے  دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ ممکن ہے کہ اس بار 61 فیصد سے زیادہ ہو لیکن پھر بھی مہاراشٹر کی عوام بڑی تعداد میں نکل کر ووٹ دیتی نظر نہیں آئی ۔