Bharat Express DD Free Dish

Made in India

وزیراعظم مودی نے بنکروں اور دستکاروں کی خدمات کو سراہا۔ کم از کم ایک ہینڈلوم مصنوعات خریدنے اور روایتی لباس کے ساتھ سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنے کی اپیل بھی کی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی قومی یومِ دستکاری کے موقع پر عوام کو مبارک باد پیش کی اور اس شعبے کے ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے گہرے تعلق کو اجاگر کیا۔

پیوش گوئل نے کہا کہ عالمی سطح پر جو عزت، سرمایہ کاری اور اعتماد حاصل کرنے کے لیے بھارت نے کئی دہائیوں تک انتظار کیا، وہ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ممکن ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی کامیابیاں اپوزیشن کو برداشت نہیں ہو رہیں۔

یہ پیش رفت بھارت کی دفاعی خود کفالت کی پالیسی کو نئی رفتار دیتی ہے۔ دیسی ہتھیاروں کی تیاری نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی دفاعی صنعت کو بھی مضبوط مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

وزیر اعظم مودی نے بھارت کو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا بڑا مرکز بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ایک ایسا منفرد اے آئی ماڈل دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے جو ’’میڈ اِن انڈیا، میڈ فار دی ورلڈ‘‘ کے وژن کی عکاسی کرے۔ وزیر اعظم نے یہ بات جمعرات کی صبح لوک کلیان مارگ واقع اپنی رہائش گاہ پر بھارتی اے آئی اسٹارٹ اپس کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کہی۔

دھرو-NG کو محض ایک ہیلی کاپٹر نہیں بلکہ ایک ’لائف سیور‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ طبی ایمرجنسی میں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں سے مریضوں کو ایئر ایمبولینس کے طور پر منتقل کرنے میں یہ انتہائی کارآمد ہوگا۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلے کے دوران ریسکیو آپریشنز میں بھی اس کی تیز رفتاری اور مضبوط ڈیزائن اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جیسے آزادی کی تحریک کو سودیشی کے منتر سے طاقت ملی تھی، ویسے ہی خوشحالی کی راہ بھی سودیشی کے منتر سے مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بوجھ کم ہونے سے صنعت کاروں اور ہنرمندوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان اب عالمی سطح پر ’میک فار دی ورلڈ‘ کے ہدف کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ اب ہندوستان میں بنی الیکٹرک گاڑیاں (ای وی) 100 سے زیادہ ممالک کو برآمد کی جائیں گی۔ ملک میں ہائبرڈ بیٹری الیکٹروڈ کی تیاری بھی شروع ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اسکیموں کی بدولت بھارت ان صنعتی شعبوں میں بھی آگے بڑھنے لگا ہے، جہاں پہلے اسے کبھی سنجیدہ مینوفیکچرر کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔

ایپل کا یہ قدم امریکا کو بھیجے جانے والے آئی فونز کی ترسیل کے لیے چین پر انحصار کم کرنے اور ممکنہ ٹیریف خطرات سے بچاؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں کمپنی نے امریکی مارکیٹ کے لیے آئی فون کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ چین سے بھارت منتقل کیا ہے۔

ڈیکاتھلون پیداوار اور خوردہ فروشی کو مزید مربوط کرتے ہوئے، 2030 تک 90 سے زیادہ ہندوستانی شہروں تک اپنے خوردہ نقش کو پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مقامی اختراعات، ہوشیار مینوفیکچرنگ، اور مضبوط ملازمت کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ، کمپنی ہندوستان کو اپنی مسلسل ترقی اور عالمی عزائم کے لیے اہم سمجھتی ہے۔