Bharat Express DD Free Dish

Khyber-Pakhtunkhwa

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام صدر کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام بدامنی اور عدم تحفظ کے بجائے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔

پاکستانی وفد کی مداخلت کے جواب میں آجاکیہ نے کہا کہ ان کی جانب سے پیش کیے گئے نکات ان کے مطابق دستاویزی معلومات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے پاکستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔اپنے خطاب میں اجاکیا نے پاکستان کے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا صوبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق الزامات اٹھائے۔

پولیس افسر طارق حبیب نے بدھ کی دیر رات مقامی میڈیا کو بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں آٹھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے۔

شمال-مغربی پاکستان میں ہوئے خودکش حملے میں فوج کے 12 جوان سمیت کم ازکم 15 افراد کی موت ہوگئی۔ پاکستانی فوج کی میڈیا ونگ نے کہا، ’’خیبرپختونخوا میں ہوئے اس خودکش حملے میں 15 افراد کی جان گئی ہے، جس میں 12 فوج کے جوان، دوپولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سابق سرکاری افسر شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے تفتیش کے لیے نمرہ نامی خاتون کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ کلیدی ملزم اور اس کے ساتھی جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس ملزمان کی تلاش میں کارروائی کر رہی ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق، حادثہ دانا سر علاقے میں ہوا، جو بلوچستان اورخیبرپختونخوا صوبوں کی سرحد کے پاس کا یہ ایک ناقابل رسائی علاقہ ہے۔

پاکستان محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 23 مئی تک ملک کے بالائی علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اور وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اس سے قبل اپریل میں خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، مہمند اور نوشہرہ میں بارشوں سے متعلقہ واقعات میں تین افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان میں ایک بڑے خودکش حملے میں کم از کم 12 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق، ادارہ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان بھیج دیا گیا ہے اور مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ امدادی کام تیز کیے جائیں اور متاثرین کی ہر ممکن مدد یقینی بنائی جائے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز کئی میل دور تک سنی گئی۔ دھماکے میں پولیس اسٹیشن کی سنتری پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ عمارت کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہوگیا۔