Bharat Express DD Free Dish

Khyber-Pakhtunkhwa

جھال مگسی ضلع کے گنڈاوہ علاقے میں کوٹرا پولیس اسٹیشن کو مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں کے فرار ہونے کے بعد انہیں پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعہ کے روز کہا کہ پاکستان نے کئی افغان صوبوں میں نئے فوجی حملے کیے ہیں، جن میں کابل، قندھار، پکتیا اور پکتیکا شامل ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جب سے طالبان نے کابل میں اقتدار سنبھالا ہے، پاکستان میں سرحد پار سے دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان صوبوں میں، جو افغانستان سے جڑے ہیں، وہاں ایسے واقعات زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ کچھ اور حملہ آور بھی موجود تھے۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا۔

سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد بھاری پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی اور آس پاس کے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ تفتیش جاری ہے اور حکام نے کہا ہے کہ حملے میں شامل افراد کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

جنوری میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان کی سکیورٹی صورتِ حال میں تیزی سے بگاڑ آیا ہے اور یہ مسلسل پانچواں سال ہے جب ملک میں تشدد اور تصادم کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال پاکستان میں مجموعی تشدد میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے دوران عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور جرائم پیشہ عناصر سے جڑے واقعات میں کم از کم 3,187 افراد ہلاک اور 1,981 زخمی ہوئے۔

دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور تمام زخمیوں کو علاج کے لیے لکی کے سٹی اسپتال منتقل کیا گیا۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور یہ تازہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق، گزشتہ سال دسمبر میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ طورخم بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور قلیوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ سرحدی کشیدگی کے باعث ان کی جز وقتی نوکریاں ختم ہو گئی تھیں۔

گزشتہ ماہ بھی خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس کی ایک موبائل وین کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق مسلح افراد نے سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے، اس کے بعد حملہ آوروں نے گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔