Bharat Express DD Free Dish

Jharkhand News

رنجیت یادو سماجی کاموں میں سرگرم تھے۔ وہ یادو مہاسبھا کے نائب صدر تھے۔ وہ پرتاپ پور میں ہی ایک کمپیوٹر سنٹر بھی چلاتے تھے۔ پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔ پرتاپ پور تھانے کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ معاملہ قتل کا ہے یا خودکشی کا۔ ہر امکان اور شبہ کی چھان بین کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے یہ بھی کہا، "یہ اپوزیشن کے لوگ ہندو مسلم اور ذات پات کی سیاست کرکے لوگوں کو آپس میں الجھانے کا کام کرتے ہیں، تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں تناؤ پھیلے، اس لیے لوگو یہ بات  ذہن میں رکھیں کہ دو تین ماہ بعد انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔."

وزیر اعظم مودی نے کہا، 'جھارکھنڈ کے تین سب سے بڑے دشمن ہیں- جے ایم ایم، آر جے ڈی اور کانگریس۔ آج بھی آر جے ڈی جھارکھنڈ بنانے کا بدلہ جھارکھنڈ سے لیتی ہے اور کانگریس جھارکھنڈ سے نفرت کرتی ہے۔

جھارکھنڈ کے الگ ریاست بننے کے بعد پہلی بار محکمہ ایکسائز میں کانسٹیبل کی تقرری کے لیے امتحان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے متحدہ بہار میں سال 1980 میں اس محکمہ میں کانسٹیبل کی تقرری ہوئی تھی۔ جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کے ذریعہ کرائے جانے والے امتحان کے ذریعہ کل 583 آسامیوں پر تقرر کیا جانا ہے۔

جھارکھنڈ کی حکمراں جماعت جے ایم ایم کے خلاف بغاوت کے بعد سابق وزیر اعلی چمپائی سورین نے ایک نئی پارٹی کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ اگر اسے کوئی نیا ساتھی مل گیا تو وہ اس کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے کارکنوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کو لے کر ہفتہ کو بی جے پی کارکنوں نے تمام ضلع ہیڈکوارٹرز اور تھانوں میں مظاہرہ کیا۔

وزیر اعلیٰ نے ہزاری باغ، چترا، کوڈرما، بوکارو، دھنباد اور گرڈیہ کی 13 لاکھ 81 ہزار سے زیادہ خواتین کے کھاتوں میں فی ایک ہزار روپے کی رقم منتقل کی۔

سابق وزیر اعلی چمپائی سورین اب سیاست کے میدان میں فرنٹ فٹ پر اتر چکے ہیں۔ دہلی سے واپسی کے بعد انہوں نے آج ہٹہ علاقہ میں حامیوں سے ملاقات کے بعد  عیلحیدہ سیاسی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ 

ہرکیشور یادو کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ونود، رتلال، منوج، نوال اور شمبھو نے زمین کے تنازع پر جاری ذاتی دشمنی کی وجہ سے ان کے پورے خاندان کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ایک ہفتہ قبل اس پر لڑائی ہوئی تھی اور پولیس کو اس کی اطلاع دی گئی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دھماکے سے فیکٹری کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ فی الحال پلانٹ کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی جا رہی ہے کہ دھماکہ کیسے ہوا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے۔