Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulema-E-Hind

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے پیش ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں ابتدائی جواب اورمتعلقہ دستاویزات داخل کرنے کے لیے سات دنوں کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظورکرلیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے میٹنگ میں بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند نے وقف کے تحفظ کے لیے آزادی سے قبل اوربعد میں تاریخی کردارادا کیا ہے۔ 1937 میں شریعت ایپلی کیشن ایکٹ اوربعد ازاں وقف ایکٹ 1954 اور1995 میں جمعیۃ کی سفارشات کو شامل کیا گیا، لیکن موجودہ حکومت کسی بھی دینی اورقانونی ادارے کی رائے کو خاطرمیں نہیں لائی۔

عرضی گزار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ یہ قانون آئین ہند کی متعدد بنیاد ی دفعات سے متصادم، اکثریتی ذہنیت کی پیداوار اور بدنیتی پر مبنی 13 اپریل کو جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مزید اقدامات پر غور ہوگا۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اوقاف کا تحفظ ہمارامذہبی فریضہ ہے. رٹ پٹیشن میں نوٹیفیکشن جاری کرنے سے روکنے کے لئے عبوری ہدایت جاری کرنے کی بھی درخواست خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم ،جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم، جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے.

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پران بے گناہ افراد کو قانونی مدد فراہم کی گئی۔ کڑکڑ ڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پلاستیہ پرماچالا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پر ببوکے قتل میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

جمعیۃ علماء ہند نےعلامتی احتجاج کے طورپرخود کو سیکولر کہنے والی جے ڈی یو اورٹی ڈی پی جیسی پارٹیوں کی افطارپارٹی اورعید ملن اوردیگر تقریبات میں شرکت نہیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر نےکہا کہ بل کو جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے حوالہ کرنے کاڈھونگ بھی کیا گیا اور اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران کی تجاویز اور مشورہ کو رد کردیا گیا، جو 14 ترمیمات کی گئیں ان میں بھی شاطرانہ اندازمیں ایسی دفعات جوڑدی گئیں، جن سے اوقاف پرحکومت کے قبضہ کرنے کی راہ آسان ہوجائے۔

رمضان کے مہینے میں ڈیرھ سال سے قید توفیق کے اہل خانہ کی خوشی دوبالا ہوئی۔ والدین نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ آئی پی سی کی دفعات بھی پورے ملک میں یکساں نہیں ہیں، ریاستوں میں اس کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ ملک میں گؤکشی کا قانون بھی ایک نہیں ہے، جوقانون ہے وہ پانچ ریاستوں میں نافذ نہیں ہے۔

جمعیۃ علماء ہند حکومت کے اس فیصلے کو نینیتال ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں چیلنج کرے گی۔ جمعیت اس کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی رہنمائی میں چیلنج کرے گی۔