Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia

پہلے دن میں 32 تحقیقی مقالے بھارت اور دیگر ممالک کے ماہرین اور اسکالرز نے پیش کیے۔ اس کانفرنس میں انڈونیشیا، افغانستان، نیپال، تبت، بھوٹان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، لاؤس، سنگاپور، تھائی لینڈ جیسے ممالک کے نمائندے شامل تھے۔

اسکالرشپ اینڈ گرانٹس بیورو(ایس اے جی) اورآل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) کی جانب سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آئیڈیا (آئیڈیا ڈیولپمنٹ، ایوے لوایشن اینڈ اپلی کیشن) لیپ قائم کرنے کی منظوری مل گئی ہے۔

یہ میٹنگ جامعہ اسکول کے طلبہ اور یو پی ایس سی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے فائدے کے لیے ہائی برڈ ایجوکیشن ماڈل پر عمل آوری کے اہم اجز اپرمرکوز تھی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدرشعبہ اردو اورعہد حاضرکے ممتازشاعرپروفیسراحمد محفوظ کواردواکادمی دہلی نے’ایوارڈ برائے تحقیق وتنقید‘، سید عابد حسین سینئرسیکنڈری اسکول کی استاد رخشندہ روحی کو’ایوارڈ برائے تخلیقی نثر‘ اورسابق صدر شعبہ اردوپروفیسرخالد محمود کو’پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی‘ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرمختار احمد انصاری نے 1928 سے 1936 تک یونیورسٹی کے چانسلرکے طور پر بھی خدمات انجام دیں اوراس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مختاراحمد انصاری کی میراث جامعہ ملیہ اسلامیہ سے آگے پھیلی ہوئی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جاوید علی خان نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن کرانے اور جیل میں بند الیومنائی ایسوسی ایشن کے صدر شفاء الرحمٰن کی قانونی لڑائی لڑنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے وجود پر ہمیشہ خطرہ منڈراتا رہا ہے، اس کا بھی ہمیں مقابلہ کرنا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ بانیان جامعہ نے جو خواب دیکھاتھا،آج اس خواب کو اپنے کندھے پر لئے گھوم رہا ہوں اور کوشش کررہاہوں کہ وہ شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بی ایڈ پروگرام کے لیے کل 1,211 امیدواروں نے درخواست دی تھی، جن میں سے 1,046 امیدواروں نے اتوار کو داخلہ امتحان میں شرکت کی۔36 میں سے 29 درخواست دہندگان نے یوگا اسٹڈیز میں سرٹیفکیٹ کے لیے داخلہ امتحان میں شرکت کی۔

پروفیسر مہتاب رضوی نے کہا کہ جامعہ میں نظم و نسق کو برقراررکھنا ان کی اعلیٰ ترجیح ہوگی اور وہ اس مقصد کواسٹیک ہولڈرزکے تعاون سے مزید مستحکم کریں گے۔

بڑی بات یہ ہے کہ پروفیسر مظہر آصف کو وائس چانسلر بنائے جانے سے جامعہ ملیہ کے ساتھ ساتھ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بھی خوشی کا ماحول ہے اور یہ عام تاثر ہے کہ پروفیسر مظہر کے آنے سے جامعہ ملیہ کے وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ تعلیمی برادری کھلے دل سے پروفیسر مظہر آصف کا استقبال کررہی ہے اور نیک تمناوں کا اظہار کررہی ہے۔