Bharat Express DD Free Dish

Jamat-E-Islami

جماعت اسلامی ہند کیرالہ متاثرہ برادریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر قدم پر ان کے تعاون کے لیے تیار ہے۔ اس پریس کانفرنس میں نائب امیر حلقہ کیرالہ ایم کے محمد علی، سکریٹری شہاب پوکو ٹور اور ریلیف سیل کے کنوینر شبیر کوڈولی بھی شامل تھے۔

پروفیسر سلیم نے کہا کہ ’’ ان نئے قوانین میں کئی مسائل ہیں۔ انہیں انتہائی متنازع طریقے سے منظور کروایا گیا تھا۔ یہ منظوری ایسے وقت میں ہوئی تھی جب  دسمبر 2023 میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی بڑی تعداد کو معطل کردیا گیا تھا ۔ اسی دوران برائے نام بحث کے بعد انہیں منظور کرلیا گیا۔

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا احساس ہے کہ اس بارپارلیمانی انتخاب میں عوام کا مینڈیٹ بہت واضح ہے۔ یہ مینڈیٹ آمریت کے مقابلے میں جمہوریت، فسطائیت وفرقہ پرستی کے بالمقابل دستوری اقدار، نفرت وتفریق کے مقابلے میں رواداری وتکثیریت اورتکبرکے بجائے انکساری کے حق میں ہے۔

بچوں میں تمام اچھے کردار اور برتاؤ کے ارتقا کے لیے ضروری ہے کہ والدین میں بھی اچھے خصائص ہوں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘آج والدین بچے کو ڈاکٹر، انجینئر یا دیگر پروفیشنل بنانا چاہتے ہیں لیکن اعلی مقصدِ زندگی نہیں دینا چاہتے ۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خاں نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ حالیہ انتخابات کے دوران مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو ووٹنگ کے دوران پریشان کرنے اور ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لئے ماحول بنانا، انتہائی مذموم عمل ہے۔ جماعت ایسی کسی بھی سرگرمی کی سخت مذمت کرتی ہے۔

ہم نے رمضان مکمل کرلیا ہے اور عید کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ تمام اہل وطن کو عید کی خوشیاں مبارک ہو۔ اس اہم موقعے پرہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ رمضان کے روزوں کے کتنے مقاصد ہم نے حاصل کئے۔ اسلام میں ہر عبادت کا ایک ظاہری پہلوہوتا ہے اور ایک باطنی و روحانی۔

بتادیں کہ دسمبر 2022 میں جموں و کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) نے وادی کے چار اضلاع میں جماعت کی 100 کروڑ روپے کی متعدد جائیدادوں کو ضبط کیا تھا۔

جماعت اسلامی ہند کی ماہانہ پریس کانفرنس میں منی پورکا غیر حل شدہ بحران، نئے فوجداری قوانین، نئے ڈیٹا پروٹیکشن بل، تعلیمی اداروں میں اسلاموفوبیا، نئی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس اورہماچل ماحولیاتی تباہی جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اترپردیش کے مظفر نگر ضلع میں واقع خوش پور گاؤں کے نیہا پبلک اسکول میں ایک بچے کو دوسرے بچے سے پٹوانے کا واقعہ انتہائی شرمناک ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اور دیگر معتبر میڈیا رپورٹوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ اسکول کے کلاس روم میں ایک ٹیچر کی موجودگی میں طلباء ایک ایک کرکے آتے ہیں اور ایک مسلم لڑکے کے منہ پر تھپڑ مارتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے وفد کا تجزیہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ اس تشدد کا باعث بنا، جس کو مناسب طریقے پرسنبھالنے میں پولیس فورس پوری طرح سے ناکام رہی اورجلوس کوکئی حساس علاقوں سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔