Bharat Express DD Free Dish

Jamat-E-Islami Hind

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت ’آئی سی جے ‘ میں گھسیٹنے پر جنوبی افریقہ کی ستائش کرتے ہوئے حکومت ہند اور مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لئے اسرائیل پر دباؤ بنائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر نے کہا، "ہم اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ اذان کا مطلب مسلمانوں کے لیے مساجد میں پانچ وقت کی لازمی نماز میں شرکت کے لیے ہے۔ السلام علیکم) اور آج بھی جاری ہے

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اسرائیل کے اس ظالمانہ رویے کی شدید مذمت کرتا ہے نیز بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی ان وحشیانہ کارروائیوں پر قدغن لگاتے ہوئےمستقل جنگ بندی کو فوری نافذ کرائے

سید سعادت اللہ حسینی نے اس اہم قرارداد پرووٹنگ میں بھارت کی عدم شرکت پراپنی مایوسی کا اظہارکیا ہے اورکہا ہے کہ بھارت ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے اوراسرائیل کے استعماری مظالم کی شدید مخالفت کرنے والی ایک نمایاں آوازرہا ہے۔

جماعت اسلامی ہند، اسرائیل کے اس وحشیانہ عمل کو قتل عام اورانسانیت کے خلاف جرم سمجھتی ہے۔ اسرائیلی قابض فوج تمام جنگی قوانین اوربنیادی انسانی اقدارکی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکولوں اوراسپتالوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

جماعت  اسلامی ہند گاندھی جی کے اس مشہور قول پر یقین رکھتی ہے جو ہندوستان کی قدیم پالیسی کی بنیاد رہی ہے ۔ وہ یہ کہ ' فلسطین فلسطینیوں کا ہے جس طرح انگلستان انگریزوں کا ہے یا فرانس فرانسیسیوں کا ہے '۔ جماعت چاہتی ہے کہ ہندوستانی حکومت فلسطینیوں کی حمایت کرے۔

جماعت اسلامی ہند نے بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے خلاف پارلیمنٹ میں بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کی جانب سے استعمال کی گئی خوفناک، جارحانہ اور غلیظ زبان کی مذمت کی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نےکہا کہ ”بل کے مسودہ میں او بی سی اور مسلم خواتین کو الگ رکھا گیا ہے۔ اس طرح کے بل سے جس میں ان دو طبقوں کو شامل نہیں کیا گیا، ملک میں پائے جانے والے سماجی عدم مساوات کو دور نہیں کیا جاسکتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کی ماہانہ پریس کانفرنس میں منی پورکا غیر حل شدہ بحران، نئے فوجداری قوانین، نئے ڈیٹا پروٹیکشن بل، تعلیمی اداروں میں اسلاموفوبیا، نئی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس اورہماچل ماحولیاتی تباہی جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اترپردیش کے مظفر نگر ضلع میں واقع خوش پور گاؤں کے نیہا پبلک اسکول میں ایک بچے کو دوسرے بچے سے پٹوانے کا واقعہ انتہائی شرمناک ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اور دیگر معتبر میڈیا رپورٹوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ اسکول کے کلاس روم میں ایک ٹیچر کی موجودگی میں طلباء ایک ایک کرکے آتے ہیں اور ایک مسلم لڑکے کے منہ پر تھپڑ مارتے ہیں۔