Bharat Express DD Free Dish

Jamat-E-Islami Hind

سعادت اللہ حسینی نے فرمایا کہ کاکا سعید احمد صاحب مرحوم کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا توسع اور اعتدال تھا، جو عین اسلام کا مزاج ہے۔ ملت کے تمام اداروں اورجماعتوں کی مثبت خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے

ہم نے رمضان مکمل کرلیا ہے اور عید کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ تمام اہل وطن کو عید کی خوشیاں مبارک ہو۔ اس اہم موقعے پرہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ رمضان کے روزوں کے کتنے مقاصد ہم نے حاصل کئے۔ اسلام میں ہر عبادت کا ایک ظاہری پہلوہوتا ہے اور ایک باطنی و روحانی۔

کچھ دنوں قبل جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو گرفتار کیا گیا، ان کے بعد کجریوال دوسرے اپوزیشن وزیر اعلیٰ ہیں جنہیں ’ای ڈی‘ نے سلاخوں کے پیچھے ڈالا ہے۔

اخوان المسلمون مصری عوام میں ایک مقبول ترین تحریک ہے جسے محمد مرسی کی حکومت کی برطرفی کے بعد بلا جواز نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وزارت برائے اقلیتی امور کے حکم پر مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بند کئے جانے پر جماعت اسلامی ہند نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن کے پاس فنڈز کی کل دستیابی 30 نومبر 2023 تک 403.55 کروڑ روپئے کی لیابلیٹی کے ساتھ 1073.26 کروڑ روپئے، مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پاس 669.71 کروڑ روپے دستیاب ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کا خیال ہے کہ حکومت کسانوں کے لیڈروں سے بات کرے اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنے۔ نیز حکومت کو چاہئے کہ وہ کاشتکاری سے متعلق کوئی بھی پالیسی بنانے سے پہلے کسانوں کو اعتماد میں لے

امیر جماعت نے مزید کہا کہ ’’ ہمیں اپنی طاقت سے آگاہ رہنا چاہئے، اس کی جڑیں ہمارے مذہب ، اس کی عظیم تعلیمات اور اصولوں میں پیوست ہیں۔ کسی بھی طرح کے جبر و استحصال کے خلاف ایک محافظ کے طور پر کام کرنا ہماری روایت رہی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ گیان واپی مسجد معاملے میں کورٹ کی یہ دلیل قطعی غلط ہے اورنا واقفیت کی بنیاد پردی گئی ہے۔ سچائی تویہ ہے کہ تہہ  خانے میں کبھی کوئی پوجا ہوئی ہی نہیں اورنہ ہی اس کا کوئی ثبوت ہے۔

امیر جماعت نے کہا کہ ہم پہلے بھی ’ ورشپس پلیس ایکٹ 1991‘ کی پاسداری کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور آج پھر اسی کا اعادہ کرتے ہیں ۔ یہ ایکٹ عوامی عبادت گاہوں کو 15 اگست 1947 کے مذہبی کردار پر برقرار رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کا ماننا ہے کہ ’اے ایس آئی‘ کی رپورٹ اس متنازعہ معاملے میں حتمی ثبوت نہیں بن سکتی‘‘۔ یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر جناب ملک معتصم خان نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہیں۔