Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Crisis

اسرائیل اور حماس کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جن کی تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی تھی۔ اسرائیل نے اس معاہدے کے شرائط کو قبول کر لیا ہے، لیکن حماس نے جنگ کے مکمل خاتمے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔ بھارت کو واضح طور پر بات کرنی چاہیے، ذمہ داری سے عمل کرنا چاہیے اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے اور گفت و شنید کی طرف واپسی کے لیے ہر ممکن سفارتی چینل کا استعمال کرنا چاہیے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار رحیق عباسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی مغربی ممالک جنگی جرائم کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے، انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان یورپی یونین کے 9 ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینی علاقوں پراسرائیل کے قبضے کوغیر قانونی تسلیم کرنا اورامن کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنا ہے۔

فلسطینی مندوب کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ کے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ فلسطینی مندوب کی تکلیف اوردرد سے بھری ہوئی تقریرکا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے، جس نے دنیا بھر کے عوام اور کئی عالمی رہنماؤں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے۔

شہری دفاع کے میڈیکل سپلائی کے ڈائریکٹرمحمد المغیرنے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں سے 23 افراد مرکزی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں القرییناوی خاندان کے گھرپراسرائیلی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنے۔ غزہ کی وزارت صحت نے بھی رفح میں امریکی امدادی مراکز کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 48 گھنٹوں کے دوران 9 افراد کے جاں بحق ہونے اور60 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کا بتایا۔

غزہ میں غذائی قلت کا بحران نہ صرف فوری اموات کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس کے طویل مدتی اثرات بھی تباہ کن ہیں۔ یونیسف اور دیگر امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی نشوونما رک رہی ہے، دماغی صلاحیتوں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

لفتھانزا گروپ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ فروری 2025 سے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن تازہ ترین سیکیورٹی جائزوں کے بعد اس معطلی کو جنوری 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے۔

نیتن یاہو نے بڑھتے ہوئے دباؤ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس شرط پر تنازع ختم کرنے کے لیے تیار ہیں کہ "اگر باقی ماندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے، حماس اپنے ہتھیار ڈال دے، اس کے قاتل رہنما جلاوطن ہو جائیں اور غزہ کو غیر فوجی بنایا جائے۔