Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Crisis

ملک کی مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت، قتل عام، بھکمری اور میڈیکل سہولیات نہیں فراہم کئے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پوری دنیا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بھارت ایکسپریس اردو سے خصوصی بات چیت میں تبادلہ خیال کیا۔

پریس کانفرنس میں ممتاز شخصیات نے کہا کہ "اسرائیلی بمباری اورمحاصرے کے باعث غزہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طورپرتباہ ہوچکا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد شہری شدید غذائی قلت، صحت کے نظام کی تباہی اوردیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کررہے ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ اسپتال یا تو مکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہوچکے ہیں۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا کہ فلسطین کے حق میں ہرکسی کو آوازاٹھانی چاہئے۔ انہوں نے سعودی عرب کے تعاون اورکردار سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مظلومین کے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے۔ سعودی عرب فلسطین کے تعاون کے لئے سب سے آگے رہا ہے اور ہمیشہ اس نے قضیہ فلسطین کی بات کی ہے۔

سعودی عرب نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا محض علامتی نہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے "اسٹریٹجک ضرورت" ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت خطے اور عالمی سطح پر عادلانہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

عالمی برادری کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں 28 ممالک، بشمول برطانیہ اور فرانس، نے اسرائیل سے امداد کی پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ کے حالات کو "اخلاقی بحران" قرار دیا اور عالمی لاتعلقی کی مذمت کی۔

مسلم تنظیموں کے رہنما، مذہبی علماء اورملک کے امن پسند شہری، غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانیت سوز بحران کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم 20 کروڑ سے زائد بھارتی مسلمانوں اور وطن عزیز کے تمام امن پسند شہریوں کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اور معاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائز قبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے پیرکی شام کو خبردارکیا کہ غزہ میں "لوگوں کو زندہ رکھنے والے آخری سہارے" منہدم ہو رہے ہیں اوریہ کہ غذائیت کی قلت کے شکاربچوں اوربڑوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات ملی ہیں۔ ابو سلمیہ نے صحافیوں کو بتایا، غزہ کے باقی فعال اسپتالوں میں غذائیت کی قلت اورفاقوں کے نئے کیسز"ہرلمحے" پہنچ رہے ہیں۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطین کے جھنڈے، پوسٹراوربینرزاٹھا رکھے تھے، جن پر ’فلسطین آزاد ہو‘، ’غزہ زندہ ہے‘، اور’ظلم کے خلاف ہم ایک ہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مارچ کے آخری مرحلے میں مظاہرین نے ’ہم سب فلسطین ہیں‘ کا نعرہ لگا کر یکجہتی کا پیغام دیا۔

کنیسٹ کے موسم گرما کے وقفے سے قبل یہ صورتحال نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو جولائی کے آخر سے اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس وقفے سے نیتن یاہو کو یو ٹی جے کے ساتھ مذاکرات کے لیے اضافی وقت مل سکتا ہے تاکہ وہ انہیں اتحاد میں واپس لائیں۔