Bharat Express DD Free Dish

Israel Hamas War

حماس گروپ کے ایک سینئر لیڈر نے کہا ہے کہ حماس، اسرائیل کے ساتھ پانچ سال یا اس سے زیادہ وقت کے لئے سیز فائر کرنے پر تیار ہے۔ اس کے علاوہ اگر1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کا قیام ہوجاتا ہے تو وہ اپنے ہتھیار ڈال دے گا اور ایک سیاسی پارٹی بن جائے گا۔

غزہ اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر سے مسلسل جنگ جاری ہے۔ اس کے بعد سے پاکستان میں فلسطین کی حمایت میں کئی پرتشدد مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔

شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے وزیراعظم مودی سے اس جنگ کو جلد از جلد ختم کرانے کی اپیل کی ہے۔ اس دوران انہوں نے اسرائیل پر نشانہ سادھا۔ 

بھوجپوری اداکار پون سنگھ نے لوک سبھا الیکشن سے متعلق اعلان کیا ہے۔ پون سنگھ کو پہلے بنگال کے آسنسول سے بی جے پی نے ٹکٹ دیا تھا۔

رفح میں اس وقت تقریباً 15 لاکھ کے بے گھرفلسطینی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں سے یہاں جمع ہیں اوررفح کا یہ چھوٹا سا شہرانتہائی گنجان آباد پناہ گاہ کے طورپرفلسطینیوں کے لئے موجود ہے۔

اسرائیلی فوج خان یونس سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اسرائیل کا پیچھے ہٹنا فلسطینیوں کے لئے راحت نہیں بلکہ تشویش کی بات ہے۔ اسرائیلی افسران نے اس کے پیچھے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی واپسی اگلے پلان کا حصہ ہے، کیونکہ فوج حماس کے آخری گڑھ رفح میں جانے کی تیاری کررہی ہے۔

سید جلال الدین نے کہا کہ حماس سے جنگ تھی تو ہوتی اور جو جنگی قوانین ہیں ان پر عمل کیا جاتا لیکن گریٹر اسرائیل بنانے کا خواب لیے اسرائیل غزہ میں نسل کشی پر آمادہ ہے۔

اسرائیل اپنے دشمنوں کی جانکاری جمع کرنے اوراس کی بنیاد پر ہدف کو چننے اوراسے برباد کرنے میں آرٹیفیشیل انٹلی جنس کا جم کراستعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی سیکورٹی سے منسلک لوگوں کے مطابق، اسرائیل نے گاسپیل نام سے ایک اے آئی سسٹم تیارکیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ پرمسلسل حملے کئے جا رہے ہیں۔ اس حملے میں عام شہری اور امدادی کاموں میں مصروف لوگ بھی مارے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ اور برطانیہ اسرائیل سے ناراض ہیں۔ جو بائیڈن نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے۔

اسرائیل کے وزیرتوانائی ایلی کوہن نےزوردے کرکہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہداف اورمفادات اسرائیل کے بغیرحاصل نہیں ہوسکتے۔ اگراسرائیل مدد نہیں کرے توامریکہ کے لئے خطے میں اپنے مفادات کا حصول ممکن نہیں۔