Bharat Express DD Free Dish

Iran-US-Israel War

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرجنگ بندی نہ مانی گئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔ امریکی فوجی اس کے لئے تیارہیں۔

آئی ایم سی آرکے چیئرمین نے ایران کی تاریخی مزاحمتی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک صدیوں سے بیرونی دباؤ، حملوں اوربڑی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی بقا اوردفاع کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی تاریخ یہ ظاہرکرتی ہے کہ وہ دفاعی استقامت رکھتا ہے اوراس نے روایتی طورپرجارحانہ توسیع پسندی کے بجائے مزاحمتی حکمتِ عملی اختیارکی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ صورت حال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پراطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے، بالخصوص آبنائے ہرمزکے دوبارہ کھلنے اور کشیدگی میں کمی کے باعث، عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہوئی ہے اور بھارت سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی آئی ہے۔

شیو سینا (یوبی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ پاکستان کو جنگ بندی کا کریڈٹ مل رہا ہے، یہ ہندوستان اور وزیراعظم نریندرمودی کے لئے بڑی شرمندگی کی بات ہے، ہم ہمیشہ پاکستان کوغریب ملک کہتے ہیں، جب پاکستان کی ثالثی کا معاملہ سامنے آیا تووزیرخارجہ ایس جے شنکرنے کہا تھا کہ یہ ایک 'دلال ملک' ہے اور ہم دلالی نہیں کرتے۔

مشرق وسطیٰ کے بحران کے درمیان، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے، جس میں مائیگرنٹ مزدوروں کے لئے 5 کلوگرام کے ایف ٹی ایل گیس سلینڈرکی یومیہ فراہمی کو دوگنا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

شہباز شریف حکومت نے پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، گلگت بلتستان اورپی او کے میں بازاروں، شاپنگ مال اور کمرشیل علاقے رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ تہران نے امریکہ کے لئے اپنا سفارتی جواب تیارکرلیا ہے اور وہ مناسب وقت پراس کا اعلان کرے گا۔ ایران نے کہا کہ وہ اپنی شرائط پہلے ہی بتا چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس احتجاج کو ‘لیفٹ فنڈنگ نیٹ ورک’ کا حصہ قرار دیا، جب کہ ریپبلکن لیڈروں نے اسے ‘ہیٹ امریکہ’ ریلی کہا۔ اس دوران امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ ہوا اور مظاہرین نے ‘نو کنگز’ کے نعرے لگائے

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایسے حملے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر بھی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔