نئی دہلی :ایران نے جمعہ 29 مارچ 2026 کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ کر کے امریکی فضائی نگرانی کے جدید طیارے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ پرنس سلطان ایئر بیس پر کیا گیا، جہاں امریکہ کا جدید E-3 AWACS طیارہ دیگر دفاعی نظاموں کے ساتھ تعینات تھا۔ایرانی میڈیا کے دعوے کے مطابق حملے کے دوران امریکی AWACS طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ طیارے کا مرکزی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جب کہ صرف اگلا اور پچھلا حصہ باقی رہ گیا ہے۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ابتدائی تصاویر میں تباہ شدہ طیارے کے ملبے کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس سے نقصان کی شدت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملہ
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اس حملے میں چھ بیلسٹک میزائل اور 29 حملہ آور ڈرونز کا استعمال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ انتہائی منظم انداز میں کیا گیا، جس کا مقصد امریکی دفاعی نظام کو نشانہ بنانا تھا۔اطلاعات کے مطابق پرنس سلطان ایئر بیس امریکی افواج کے لیے خطے میں ایک اہم فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں فضائی نگرانی اور دفاعی کارروائیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ ایسے میں اس ایئر بیس پر حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
🔥📸 Iranian strike knocks out US AWACS aircraft at Saudi air base
Photos circulating on social media appear to show a US E-3 Sentry AWACS aircraft destroyed in Iranian strikes on Prince Sultan Air Base in Saudi Arabia.
Earlier on March 28, an Iranian missile and drone strike… https://t.co/XkgzwEKzhG pic.twitter.com/kCGyT3LMOM
— Sputnik (@SputnikInt) March 29, 2026
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس واقعے کے حوالے سے امریکی حکام یا سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ خطے میں طاقت کے توازن پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایسے حملے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر بھی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
فی الحال حکام نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں، جب کہ اس حملے کی حقیقت اور اس کے اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید ردعمل اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



